ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 51 of 255

ہمارا خدا — Page 51

ہئے کیونکہ جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ فطرت کہتے کسے ہیں اُس وقت تک فطرت کی آواز کے معنے سمجھنا بھی مشکل ہیں۔سو جاننا چاہئے کہ فطرت ایک عربی لفظ ہے جو فطر سے نکلا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں فُلانٌ فَطَرَ الاَ مْرَأَى اِخْتَرَعَهُ وَابْتَدَءَ هُ وَانْشَاءَهُ یعنی جب یہ کہا جائے کہ فلاں شخص نے فلاں امر فطر کیا تو اس سے مُراد یہ ہوتی ہے کہ اس نے فلاں امر کو جو پہلے موجود نہ تھا بنایا اور اس کی ابتداء کی اور اُسے نیست سے ہست میں لاکر زندگی کے میدان میں بلند ہونے کے قابل بنا دیا۔چنانچہ اسی بنا پر لغت والوں نے فطرت کے معنے یہ لکھے ہیں کہ : - الصفة التي يتصف بها كلّ مولود في اوّل زمان خلقتہ یعنی فطرت ان صفات کا نام ہے جو ہر بچے میں اُس کی ابتداء خلقت کے وقت ودیعت کی جاتی ہیں۔“ اس تعریف کے مطابق فطرتِ انسانی سے وہ صفات وخواص مراد ہونگے جو بیرونی اثرات کے نتیجہ میں نہیں پیدا ہوئے بلکہ خلقی اور طبعی طور پر انسان کے اندر مرکوز کئے گئے ہیں تا وہ انکے ذریعہ اپنے واسطے ترقیات کا دروازہ کھول سکے۔ظاہر ہے کہ ہر چیز بعض ایسے خواص اپنے اندر رکھتی ہے جو اسکے حواس طبعی کہلاتے ہیں۔انہی خواص کا مجموعہ فطرت ہے۔یہ خواص اور صفات بیرونی اثرات کے ماتحت آکر دب جاتے ہیں یا چمک جاتے ہیں۔اور اسی پر کسی ہستی کی ترقی اور تنزل کا دارو مدار ہے اور ہر شخص اپنے اندر غور کر کے اس بات کا پتہ لگا سکتا ہے کہ اس کے فطری خواص کس راستہ پر چل رہے ہیں۔مثلاً راست گفتاری انسان کا ایک فطری جذبہ ہے یعنی انسان کا یہ فطری خاصہ ہے کہ وہ وہی بات منہ پر لائے جو واقعہ کے مطابق ہے اور ہر بچہ ابتداء اسی فطری خاصہ کے مطابق اپنا رویہ رکھتا ہے۔لیکن بعض اوقات جب وہ دیکھتا ہے کہ اُس کے کسی فعل پر اُس کے ماں باپ ناراض ہوتے ہیں اور وہ فعل کسی وجہ سے اُسے مرغوب اور پسند خاطر ہوتا ہے تو اس کے دل میں اس فعل کے کرنے کی خواہش زور پکڑتی ہے لیکن وہ اپنے 51