ہمارا خدا — Page 247
کمانے کی بجائے وقت کو بے ہودہ طور پر ضائع کرنے اور محض اتفاق پر اپنی آمد کی بنیاد رکھنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔چوتھے اسلام نے مال و دولت کو خزانوں کی صورت میں جمع کر کے رکھنے سے بھی روکا ہے تا کہ یہی اموال ملکی صنعت و تجارت میں لگ کر بیکاروں کی روز گار کا ذریعہ بن سکے۔پانچویں اسلام نے ہر مالدار کی دولت پر زکوۃ کی صورت میں بھاری ٹیکس لگایا ہے اور حکم دیا ہے کہ جو ز کوۃ کا مال وصول ہو وہ نہ صرف غریبوں اور محتاجوں وغیرہ میں تقسیم کیا جائے بلکہ ایسے بیکار لوگوں کی امداد میں بھی خرچ کیا جائے جو کوئی ہنر تو رکھتے ہیں مگر اس ہنر سے فائدہ اُٹھانے کے ذرائع نہیں رکھتے۔اور اسلام نے زکوۃ کے نظام کی غرض و غایت یہ بیان کی ہے کہ:۔تُوْخَذُ مِنْ أَغْنِيَاءِ هِمْ وَتُرَدُّ إِلَى فُقَرَاءِ هِمْ۔(بخاری کتاب الزکوة ) یعنی ” زکوۃ کا صحیح مصرف یہ ہے کہ امیروں کی دولت کو کاٹ کر اُسے غریبوں اور محتاجوں میں پھیلایا جائے۔اسی طرح وہ دفینے جو پرائیویٹ جگہوں میں سے برآمد ہوں اُن پر بھی اسلام نے ہیں فیصدی کا بھاری ٹیکس لگا کر غریبوں کی امداد کا رستہ کھولا ہے۔چھٹے اسلام نے زکوۃ کے جبری ٹیکس کے علاوہ مسلمانوں کو تاکیدی احکام دیئے ہیں کہ وہ اپنے مالوں میں سے غریبوں کی امداد کے لئے عام صدقہ بھی نکالا کریں تا کہ زکوۃ کے علاوہ جو حکومت کے ذریعہ وصول ہو کر تقسیم ہوتی ہے لوگوں کو خود انفرادی طور پر بھی اپنے غریب بھائیوں اور ہمسایوں کی امداد کا احساس رہے اور آپس میں اخوت اور تعاون اور مواسات کی رُوح ترقی کرے۔ساتویں بالآخر اسلام نے حکم دیا ہے کہ اگر اوپر کے بیان کردہ ذرائع کے نتیجہ میں تمام غرباء کی خاطر خواہ امداد کا انتظام نہ ہو سکے تو اس صورت میں حکومت کا فرض ہے کہ 247