ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 245 of 255

ہمارا خدا — Page 245

ہوگی اور نہ ہی کسی کے پاس کوئی ایسا فالتو روپیہ ہو گا جس سے وہ کسی مستحق کی امداد کر سکے یا کسی عزیز کو تحفہ ہی دے سکے تو لازماً انسانیت کے وہ اعلیٰ اخلاق جو محبت و موالات اور ہمدردی اور قربانی اور مہمانوازی اور غریب پروری اور صلہ رحمی اور خدمت ہمسایہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں، آہستہ آہستہ مرنے شروع ہو جائیں گے اور انسانی سوسائٹی بھی اسی طرح میکا نائزڈ (Mechanised) ہو جائے گی یعنی مشین بن جائے گی جس طرح آجکل مغربی ممالک میں ہر چیز اور ہر عمل کو مشین کی صورت میں ڈھالا جارہا ہے۔5۔کمیونزم کے نظام میں یہ نقص بھی ہے کہ اس میں انسانی دماغ کی ارفع طاقتوں کی کوئی زائد قیمت نہیں لگائی گئی اور اُسے بھی اسی لیول یعنی سطح پر رکھا گیا ہے جس پر کہ ہاتھ پاؤں کی عام محنت اور مزدوری کو رکھا گیا ہے۔اور ایسے نظام کا آخری نتیجہ قوم کے ذہنی دیوالیہ پن کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا، لیکن چونکہ ایسے نتیجے کچھ عرصہ کے بعد نکلا کرتے ہیں اس لئے موجودہ جوش و خروش میں یہ تمام خطرات نظر انداز کئے جارہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔بہر حال اشتراکیت کا نظام روس کے قدیم ظالمانہ نظام کا ایک طبعی رد عمل ہے۔مگر یہ رد عمل اعتدال کی صورت میں ظاہر ہونے کی بجائے دوسری انتہا کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اور عملی نتیجہ یہ ہے کہ قوم کو ایک گڑھے (سرمایہ داری ) سے نکال کر دوسرے گڑھے(اشتراکیت) میں دھکیلا جا رہا ہے۔اسلام میں دولت کی منصفانہ تقسیم کا انتظام اشتراکیت کے مقابل پر اسلام نے جو صحیح فطرت کا مذہب ہے اور خود خالق فطرت کا بھیجا ہوا ہے اپنی حکیمانہ شریعت میں دونوں طرف کی انتہا سے بچتے ہوئے کامل اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دی ہے۔وہ ایک طرف تو کمیونزم کی طرح 245