ہمارا خدا — Page 230
شکل وصورت میں بنائی گئی ہے۔پس پہلا جواب تو میرا یہی ہے کہ جب اُصولی طور پر ایک بات ثابت ہو جائے تو خواہ نخواہ ایک سوال کے اوپر دوسرا سوال جماتے چلے جانا کہ یہ اس طرح کیوں ہے اور وہ اُس طرح کیوں نہیں ہے ہرگز سلامت روی کی راہ نہیں ہے۔پھر یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اگر اس قسم کے تمام جزوی اور تفصیلی اعتراضات کے حل ہو جانے پر ہی کوئی چیز قبول کی جانی چاہئے تو پھر کبھی بھی کسی بحث کا خاتمہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس قسم کے سوالات کا سلسلہ غیر متناہی طور پر جاری رکھا جا سکتا ہے۔پس عقلمندی کی راہ یہی ہے کہ جب اُصولی طور پر ایک بات سمجھ آجائے تو خوہ اس کی بعض جزوی تفصیلات حل نہ بھی ہوں تو اُسے قبول کر لیا جائے اور باقی کو حوالہ بخدا کیا جائے۔اس کے بعد میں اصل جواب عرض کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ علاوہ اس کے کہ بعض اشیاء کی ضرر رسانی اس رنگ میں فائدہ بخش ہے کہ وہ بعض مفید نتائج پیدا کرنے میں مد ہوتی ہے۔جیسا کہ مثلاً سانپ کا زہر بعض خطر ناک بیماریوں کے علاج میں کام آتا ہے اور قانونِ نیچر کے ماتحت اس کا یہ فائدہ اس کے زہر ہونے کی خاصیت کے ساتھ بطور لازم و ملزوم کے ہے۔یہ ضرر رسانی اس رنگ میں بھی مفید اور نفع مند ہے کہ اس سے بنی نوع انسان کی اخلاقی اصلاح اور مادی ترقی میں بالواسطہ طور پر بہت بڑی مدد ملتی ہے۔ہر عظمند میرے ساتھ اس بات میں اتفاق کرے گا کہ کبھی کبھی تکالیف اور دُکھوں کا پیش آنا انسان کے اخلاق حسنہ کی عمارت کی تعمیل کے لئے از بس ضروری ہے اور کوئی شخص جسے اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی تکلیف اور دُکھ اور مصیبت کا سامنانہ ہو ا ہو اپنے اخلاق میں کامل نہیں ہو سکتا۔اور اسی طرح انسان کی مادی ترقی کے بھی بہت سے پہلو تکالیف اور مصائب کے پیش آنے کے بغیر پوری نشو و نما نہیں پاسکتے۔لہذا دُنیا میں بعض چیزوں کا اپنے اندر ضرر رساں پہلو رکھنا بالواسطہ طور پر انسان ہی کے فائدہ اور 230