ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 152 of 255

ہمارا خدا — Page 152

اور فلاں ہمارا دوست ہے اور فلاں ہمارا شہر ہے اور فلاں ہمارا امکان ہے وغیرہ وغیرہ اور یہ کہ خدا ہم سے کلام کرتا ہے اور ہماری باتوں کو سنتا اور ان کا جواب دیتا ہے اور ضرورت کے وقت ہماری نصرت فرماتا ہے۔الغرض تمام نبی اور رسول نہایت واضح اور غیر مشکوک الفاظ میں ہمارے سامنے اس شہادت کو پیش کرتے ہیں کہ اس دُنیا کے اوپر ایک خالق و مالک خدا ہے۔اور جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے ان کی شہادت کسی سنی سنائی بات پر مبنی نہیں بلکہ اُن کے ذاتی تجربہ اور مشاہدہ پر مبنی ہے اور کسی ایک ملک یا ایک قوم یا ایک زمانہ تک محدود نہیں بلکہ ہر ملک اور ہر قوم اور ہر زمانہ میں پائی جاتی ہے۔حضرت آدم ہیں تو اس کے شاہد ہیں۔حضرت نوح ہیں تو اس کے شاہد ہیں۔حضرت یونس و ایوب ہیں تو اس کے شاہد ہیں۔حضرت ابراہیم ولوط ہیں تو اس کے شاہد ہیں۔حضرت اسمعیل و اسحاق ہیں تو اس کے شاہد ہیں۔حضرت یعقوب و یوسف ہیں تو اس کے شاہد ہیں۔حضرت موسی و ہارون ہیں تو اس کے شاہد ہیں۔حضرت داؤد وسلیمان ہیں تو اس کے شاہد ہیں۔حضرت زکریا و یحی" ہیں تو اس کے شاہد ہیں۔حضرت مسیح ناصری ہیں تو اس کے شاہد ہیں پھر زرتشت ہیں تو اس کے شاہد ہیں۔کنفیوشس ہیں تو اس کے شاہد ہیں۔کرشن اور رامچند رہیں تو اس کے شاہد ہیں۔پھر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو اس کے شاہد ہیں اور اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں تو اس کے شاہد ہیں اور ان کے علاوہ بھی جتنے بانیان مذاہب دنیا میں گزرے ہیں سب اس معاملہ میں اپنی ذاتی شہادت ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں کہ یہ دنیا ایک خالق و مالک، قدیر و متصرف خدا کے ماتحت ہے جس کے قبضہ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔اور یہ وہ لوگ ہیں جن کی راست گفتاری اور دیانت وامانت دوست و دشمن میں مسلم ہے۔یعنی دشمن بھی اس بات کو مانتا ہے کہ خواہ ان کالا یا ہو امذہب ہم قبول کریں یا نہ کریں لیکن اس میں کلام نہیں کہ یہ سب لوگ اپنی ذات میں راستباز اور صادق القول ہیں اور پھر یہ لوگ 152