ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 151 of 255

ہمارا خدا — Page 151

کوئی چیز بھی ایسی نہیں رہتی کہ جو قابلِ تسلیم ہو سکے کیونکہ ہر چیز کے متعلق خواہ وہ کیسی ہی یقینی ہو اس قسم کے احتمالات کا دروازہ کھلا ہے۔خوراک انسان کی بھوک کو دور کرتی ہے اور اس کے جسم کی ترقی اور طاقت کی بحالی کا موجب ہے لیکن کیا خوراک بعض اوقات گندی اور خراب نہیں ہوتی جو بجائے جسم کے لئے مفید ہونے کے اُسے الٹا نقصان پہنچا دیتی ہے؟ مگر کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اس احتمال کی وجہ سے یہ نتیجہ نکالے کہ خوراک جسم انسانی کے لئے ضرر رساں ہے؟ بات یہ ہے کہ ہر چیز خواہ وہ کیسی ہی مفید اور فائدہ مند ہو غلط ہاتھوں میں جاکر اور غلط استعمال میں آکر نقصان دہ ہو جاتی ہے۔پس ضرورت صرف اس احتیاط کی ہے کہ کسی چیز کا غلط استعمال نہ ہو اور اصولِ شہادت کا غلط استعمال یہ ہے کہ کسی در ونگو یا ناقض الفہم یا مخبوط الحواس شخص کی شہادت پر کسی فیصلہ کی بنیاد رکھدی جاوے۔اگر ہم اس غلط استعمال سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہیں تو پھر شہادت ایک نہایت مفید اور قابلِ اعتماد ذریعہ حصول علم کا قرار پاتی ہے جس سے کوئی عقلمند انکار نہیں کرسکتا۔مذکورہ بالا اصول کے ماتحت ہم ہستی باری تعالیٰ کے عقیدہ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ عقیدہ دنیا کی مضبوط ترین شہادت سے پایہ ثبوت کو پہنچا ہو انظر آتا ہے۔دنیا میں جتنے بھی نبی اور رسول آئے ہیں خواہ وہ کسی ملک یا کسی قوم یا کسی زمانہ میں مبعوث ہوئے ہوں ہمارے سامنے یہ شہادت پیش کرتے ہیں کہ دُنیا کا ایک خُدا ہے جو اس تمام کارخانہ عالم کا خالق و مالک و متصرف ہے اور وہ محض کسی خیال یاسنی سنائی بات کی بنا پر ایسا نہیں کہتے بلکہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے اُس خدا کو اسی طرح دیکھا اور پہچانا ہے جس طرح ہم دنیا کی دوسری غیر مادی چیزوں کو دیکھتے اور پہچانتے ہیں اور اس خدا کے ساتھ ہمارے ذاتی تعلقات قائم ہیں اور ہم اس کی ہستی کے متعلق ایسا ہی یقین رکھتے ہیں جیسا کہ مثلاً ہمیں یہ یقین ہے کہ فلاں شخص ہمارا باپ ہے اور فلاں ہمارا بھائی ہے 151