ہمارا خدا — Page 125
جہالت اور خوف اور تو ہم پرستی کا نتیجہ ہیں اور خدائے واحد کا عقیدہ ان کے اندر کبھی بھی قائم نہیں ہو ، ایک بالکل غیر منصفانہ استدلال ہے جسے کوئی غیر متعصب دانا شخص قبول نہیں کر سکتا۔علاوہ ازیں اگر نظر غور سے دیکھا جائے تو صاف پہ لگتا ہے کہ مشرکانہ عقائد کبھی بھی محض جہالت اور خوف اور تو ہم پرستی کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہو سکتے بلکہ اس کے لئے خدا کا عقیدہ پہلے موجود ہونا ضروری ہے۔بے شک یہ ایک فطری تقاضا ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسی چیز کو دیکھتا ہے جو اس سے زیادہ طاقتور یا زیادہ مہیب یا زیادہ شاندار یا زیادہ نفع رساں ہوتی ہے تو وہ اُس کے سامنے مرعوب ہو جاتا ہے اور اس کو ایک بڑی چیز سمجھنے لگ جاتا ہے اور اس کے سامنے دیتا اور خائف رہتا ہے لیکن اگر ایسا شخص عبودیت کے تصور سے بالکل نا آشنا ہے تو یہ بات قطعانا ممکن ہے کہ وہ محض اس رُعب یا خوف کی وجہ سے اس کو اپنا معبود بنالے اور اس کو اپنا خالق و مالک سمجھنے لگ جائے۔معبودیت کا خیال بہر حال اس بات کا متقاضی ہے کہ خیال کرنے والے شخص کے دماغ میں اس سے پہلے کوئی تصور معبودیت کا موجود ہو۔خوب سوچ لو کہ انسانی تصور کبھی بھی کسی خیال کا خالق نہیں بن سکتا ہاں البتہ نقال ضرور بن جاتا ہے۔یعنی اگر کسی انسان نے پہلے کوئی چیز دیکھی ہو یا سنی ہو یا وہ اس کے تجربہ میں آئی ہو تو تب ضرور اس شخص کا تصور اس کے ذہن کے سامنے اس چیز کا نقشہ پیدا کر سکتا ہے اور پھر وہ اس نقشہ کو اپنے تصور میں بڑھا اور پھیلا بھی سکتا ہے۔لیکن اگر کسی نے کوئی چیز کبھی دیکھی یا سنی ہی نہ ہو اور نہ ہی اس کی کوئی مثال اس کے سامنے آئی ہو تو اس صورت میں اس کا تصور ہر گز اس کا نقشہ اس کے ذہن میں پیدا نہیں کر سکتا۔پس جب ہر قوم کے عقائد میں کسی نہ کسی صورت میں عابد و معبود کا مفہوم پایا جاتا ہے تو لا محالہ اس بات کو تسلیم کرنا پڑیگا کہ ہر قوم اپنے اصل کے لحاظ سے خدا کے عقیدہ کو قبول کرتی ہے۔وهو المراد 125