ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 124 of 255

ہمارا خدا — Page 124

متعلق ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ بعض قو میں خدا کے عقیدہ سے بے بہرہ نظر آتی ہیں لیکن اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ ان مصنفین کو دھوکا لگا ہے اور انہوں نے پوری تحقیق سے کام نہیں لیا اور خصوصاً اُن کو یہ غلطی لگی ہے کہ انہوں نے بعض قدیم مشرک قوموں کے مشرکانہ عقائد کو محض خوف اور جہالت اور توہم پرستی کی طرف منسوب کر دیا ہے اور غلط طور پر یہ سمجھ لیا ہے کہ خدائے واحد کا عقیدہ کبھی بھی ان کے اندر پایا نہیں گیا۔حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے اور حق یہ ہے کہ شرک کا عقیدہ گو وہ جہالت کا نتیجہ ہی ہوتا ہے مگر وہ یقیناً خدا کے عقیدہ کی ایک فرع ہے نہ کہ اصل۔یعنی مشرکانہ عقائد ہمیشہ ایمان باللہ کی بگڑی ہوئی حالت کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اور ایسا نہیں ہوتا کہ خدا کا عقیدہ بالکل مفقود ہونے کی صورت میں بھی شرک کے عقائد پیدا ہو جائیں۔چنانچہ تاریخ عالم میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ایک قوم پہلے خدا کے عقیدے پر قائم نظر آتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ اس میں مشرکانہ خیالات کا دخل شروع ہو جاتا ہے اور بعض اوقات ان مشرکانہ عقائد کا ایسا غلبہ ہو جاتا ہے کہ خدا کا عقیدہ پس پشت ڈالا جا کر آہستہ آہستہ بالکل نظروں سے اوجھل اور بالآخر مفقود ہو جاتا ہے۔پس جب ایسی مثالیں موجود ہیں تو انصاف کا یہ تقاضا ہے کہ اوائل زمانہ کی جن اقوام میں ہمیں سوائے مشرکانہ عقائد کے اور کچھ نظر نہیں آتا اور ان کی ابتدائی تاریخ بھی ہمارے محفوظ نہیں ہے تو ان کے متعلق ہم یہی قیاس کریں کہ ابتداء وہ خدا کے عقیدہ پر قائم ہونگی لیکن آہستہ آہستہ خُدا کا عقیدہ بالکل مفقود ہو گیا اور اس کی جگہ خالصتاً مشرکانہ خیالات قائم ہو گئے۔دراصل جو مثالیں بعض لوگوں نے ہمارے اس خیال کے خلاف پیش کی ہیں وہ سب ایسی اقوام کی ہیں جن کی ابتدائی تاریخ محفوظ نہیں ہے۔اور جب ابتدائی تاریخ محفوظ نہیں ہے تو دوسرے واضح نظائر کو نظر انداز کر کے یہ خیال کر لینا کہ وہ قو میں ابتداء سے ہی مشرکانہ خیالات پر قائم رہی ہیں اور یہ کہ ان کے مشرکانہ عقائد محض پاس 124