ہمارا خدا — Page 123
ہو جائے۔پس اس عقیدہ کی کہ اس دُنیا کے اوپر کوئی بالا ہستی ہے یہ عظیم الشان مقبولیت جو ہر قسم کے قیود زمانی اور مکانی سے آزاد ہے اور یہ شاندار ثبات جو تاریخ عالم میں اپنی نظیر نہیں رکھتا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عقیدہ جھوٹانہیں ہوسکتا۔اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ دُنیا میں ایسے لوگ بھی تو ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں جو قطعاً کسی خدا کے قائل نہیں ہوتے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک ہر زمانہ میں ایسے لوگوں کا وجود پایا جاتا رہا ہے لیکن ان لوگوں کو کبھی کسی زمانہ میں بھی مستقل طور پر قومی حیثیت حاصل نہیں ہوئی اور دہریت کا وجود کبھی بھی کسی قوم میں قومی عقیدہ کے طور پر بالاستقلال قائم نہیں ہوا اور نہ کبھی دہریت کا سلسلہ دُنیا میں ایک مستقل اور مستحکم سلسلہ کے طور پر جاری ہوا ہے اور اس سے زیادہ وقعت اس عقیدہ کو کبھی حاصل نہیں ہوئی کہ چند آدمیوں کے دل و دماغ پر اس کی ایک عارضی حکومت قائم ہو جائے اور بس۔اقوامِ عالم کی تاریخ میں اس عقیدہ کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسا کہ کسی ملک کی منظم اور قائم شدہ سلطنت کے سامنے چند ایسے باغیوں کی حیثیت ہوتی ہے جو گا ہے گا ہے بغاوت کا جھنڈا بلند کرتے رہتے ہیں مگر کبھی بھی ایک لمبے عرصہ کے لئے جتھہ بنا کر حکومت کے سامنے کھڑے نہیں رہ سکتے اور نہ کبھی کسی معتد بہ علاقہ پر ان کو کوئی مستقل اور مستحکم اقتدار حاصل ہوتا ہے کیا اس قسم کے باغیوں کی وجہ سے ملک کی قائم شدہ حکومت میں کوئی شبہ کیا جاسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ہر گز نہیں۔کیا خُدا کا عقیدہ تو ہم پرستی کا نتیجہ ہے؟ اس جگہ اگر کسی کو یہ شبہ گذرے کہ بعض مغربی مصنفین نے لکھا ہے کہ دُنیا میں بعض قو میں ایسی بھی گذری ہیں جو بحیثیت قوم خدا کے عقیدہ سے بے بہرہ رہی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک بعض مصنفین نے ایسا لکھا ہے اور خصوصاً ابتدائی زمانہ کے 123