ہمارا گھر ہماری جنت — Page 25
صبر وتحمل حضرت مولانا عبدالکریم صاحب تحریر فرماتے ہیں :۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کو سخت در دسر ہو رہا تھا اور میں بھی اندر آپ کے پاس بیٹھا تھا اور پاس حد سے زیادہ شور وغل بر پا تھا۔میں نے عرض کیا جناب کو اس شور سے تکلیف تو نہیں ہوتی۔فرمایا ہاں اگر چپ ہو جائیں تو آرام ملتا ہے۔میں نے عرض کیا تو جناب کیوں حکم نہیں کرتے۔فرمایا آپ ان کو نرمی سے کہہ دیں۔میں تو کہہ نہیں سکتا۔بڑی بڑی سخت بیماریوں میں الگ ایک کوٹھری میں پڑے ہیں اور ایسے خاموش پڑے ہیں کہ گو یا مزہ میں سورہے ہیں۔کسی کا گلہ نہیں کہ تو نے ہمیں کیوں نہیں پوچھا اور تو نے ہمیں پانی نہیں دیا اور تو نے ہماری خدمت نہیں کی۔(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 275، از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب) بیوی کے حقوق حضرت (اماں جان) پر جب کبھی بیماری کا حملہ ہوتا تو آپ ہر طرح آپ کی ہمدردی اور خدمت کرنا ضروری سمجھتے تھے اور اپنے عمل سے آپ نے یہ تعلیم ہم سب کو دی کہ بیوی کے کیا حقوق ہوتے ہیں؟ جس طرح پر وہ ہماری خدمت کرتی ہے عند الضرورت وہ مستحق ہے کہ ہم اسی قسم کا سلوک اس سے کریں۔چنانچہ آپ علیہ السلام علاج اور توجہ الی اللہ ہی میں مصروف نہ رہتے بلکہ بعض اوقات حضرت (اماں جان ) کو دباتے بھی تا کہ آپ کو تسلی اور سکون ملے۔( سیرت حضرت مسیح موعود صفحہ 285 تا286 از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب) 25