ہمارا گھر ہماری جنت — Page 49
قربانی مانگتے ہیں۔گھر کے کام میں مدد کرنا گھانا میں ہمیشہ پانی کی قلت رہی۔ہم نے باہر ٹینک رکھا ہوا تھا جس میں ٹینکر آ کر پانی ڈالتا تھا۔اندر کچن اور غسل خانہ میں پلاسٹک کے بڑے ڈرم تھے۔حضور صبح نماز کے بعد بالٹیوں سے پانی بھرتے۔جتنا بھی ضروری کام ہوتا، مجھے یہ نہیں کہا کہ آج میں مصروف ہوں تم خود ہی بھر لو۔جب کبھی بیمار ہوئی تو کھانا پکانے کی ذمہ داری خود سنبھالتے اور بچوں کو قرآن پاک پڑھانے میں میری پوری مدد فرماتے۔بچوں کی بیماری کے دوران حضور ایدہ اللہ نے ہر طرح میری مدد فرمائی۔میٹنگز کے دوران مردوں کے رش کی وجہ سے فیڈ رز وغیرہ خود ہی دھو کر دیتے کیونکہ کچن جانے کے لئے اکثر مردوں میں سے گزرنا پڑتا تھا۔سفر میں بھی خیال رکھنا 1991ء میں ہمارا قادیان جانے کا پروگرام بنا تو میرے امی ابا کے علاوہ خالہ امتہ النصیر صاحبہ ( خالہ چھیرو) اور میری دادی مسز فرخندہ شاہ صاحبہ بھی ساتھ تھیں۔عزیزم قاسم بھی ساتھ تھا۔اس نے خالہ چھیرو اور دادی صاحبہ کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی۔باقی ہم سب کی سفر کی ساری تیاری، سارا سامان پیک کرنا، بستر بند کرنا اور ہر قسم کی ضروریات کا خیال رکھنا۔یہ سب کام حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بہت ہمت سے سنبھالا اور سفر و حضر میں میرے ساتھ سب بزرگوں کا بھی خوب خیال رکھا۔سادہ گھر یلوطر به زندگی حضور کی طبیعت میں بہت نفاست مگر سادگی ہے۔سادہ گھر یلوطر ز زندگی جوخلافت سے 49