ہمارا گھر ہماری جنت

by Other Authors

Page 33 of 57

ہمارا گھر ہماری جنت — Page 33

حضرت نواب عبداللہ خان صاحب نے اپنی وصیت میں اپنے بچوں کو نصیحت فرمائی کہ:۔” میری دعاؤں اور نیک خواہشوں کا وہی بچہ حقدار ہوگا جو اپنی ماں کی خدمت کو جزوایمان اور فرض قرار دے۔۔۔۔پس جو بچے میرے بعد ان کو خوش رکھیں گے اور ان کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ان کے ساتھ میری دعائیں اور نیک آرزوئیں ہوں گی۔جو بچے ان کو ناراض کریں گے وہ میری روح کو دکھ دیں گے۔میں ان سے دور وہ مجھ سے دور ہوں گے۔“ (اصحاب احمد جلد 12 صفحہ 95 تا 96) عدل و میزان حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کے بارہ میں تحریر ہے کہ :۔حضرت میر صاحب کی دو بیگمات تھیں۔آپ کی پہلی بیگم حضرت شوکت سلطان صاحبہ تھیں، اور دوسری بیگم حضرت امتہ اللطیف صاحبہ تھیں۔آپ کی تمام اولاد آپ کی دوسری بیگم سے تھی۔یہ حضرت میر صاحب کی تربیت کا اثر تھا کہ دونوں بیویوں میں کبھی ساری عمر کوئی نا چاقی نہیں ہوئی۔بلکہ دونوں کے درمیان حقیقی بہنوں سے بڑھ کر محبت اور تعاون کا تعلق تھا۔حضرت میر صاحب نے جو دونوں بیگمات کے درمیان عدل اور میزان قائم فرمایا تھا ، وہ آپ کی اپنی شخصیت کے میزان کا آئینہ دار ہے۔آپ کے بچے اپنی بڑی والدہ کو اچھی اماں اور اپنی حقیقی والدہ کو ” اماں کہتے۔آپ کی اولا دکو بڑے ہونے کے بعد پتہ چلا کہ ان کو جنم دینے والی والدہ کون سی ہیں۔حضرت میر صاحب کی تربیت کا ایسا اثر تھا کہ آپ کی وفات کے بعد بھی، دونوں بیگمات اسی طرح اکٹھی رہیں اور اپنی وفات تک اکٹھی رہیں۔بچے بھی دونوں ماؤں سے آخر تک برابر وابستہ رہے۔( حضرت میر محمد اسماعیل صاحب تصنیف سید حمید اللہ نصرت پاشا ( غیر مطبوعہ ) صفحہ 80 تا81) 33 33