ہمارا گھر ہماری جنت

by Other Authors

Page 31 of 57

ہمارا گھر ہماری جنت — Page 31

داری سے میرے ساتھ اوقات بسری کی اور ہمیشہ مجھے نیک صلاح دیتی رہی اور کبھی بے جا مجھ پر دباؤ نہیں ڈالا اور نہ مجھ کو میری طاقت سے بڑھ کر تکلیف دی۔میرے بچوں کو بہت ہی شفقت اور جانفشانی سے پالا۔نہ کبھی بچوں کو کو سانہ مارا اللہ تعالیٰ اسے دین و دنیا میں سرخرور کھے اور بعد انتقال جنت الفردوس عنایت فرما دے۔بہر حال عسر ویسر میں میرا ساتھ دیا۔جس کو میں نے مانا۔اس نے اس کو مانا۔جس کو میں نے پیر مانا اس نے بھی اس سے بلا تامل بیعت کی۔چنانچہ عبد اللہ صاحب غزنوی کی میرے ساتھ بیعت کی۔نیز مرزا صاحب کو جب میں نے تسلیم کیا تو اس نے بھی مان لیا۔ایسی بیویاں بھی دنیا میں کم میسر آتی ہیں“۔مقدس اور مثالی جوڑا (حیات ناصر صفحہ 5 تا 6) اگر چہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی عمر میں 27 سال کا فرق تھا، اس کے باوجود حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی عقل سمجھ ، متانت ، محبت ، وفا اور سیرت کے قدر دان تھے۔وہ جانتے تھے کہ یہ مقدس باپ کی مبارک بیٹی ہیں، چنانچہ آپ سے نکاح ہونے کے بعد حضرت نواب صاحب اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں:۔یہ وہ فضل اور احسان اللہ کا ہے اگر میں اپنی پیشانی کو شکر کے سجدے کرتے کرتے گھاؤں تو بھی خدا تعالیٰ کے شکر سے عہدہ برآنہیں ہو سکتا۔میرے جیسے نابکار اور اس کے ساتھ یہ نور۔یہ خدا کا خاص رحم اور فضل ہے۔اے خدا! اے میرے پیارے مولیٰ ! اب تو نے اپنے مرسل کا مجھ کو داماد بنایا ہے اور اس کے لخت جگر سے میراتعلق کیا ہے تو مجھ کو بھی نور بنادے کہ اس قابل ہوسکوں۔31