ہمارا گھر ہماری جنت

by Other Authors

Page 24 of 57

ہمارا گھر ہماری جنت — Page 24

چہرے کو دیکھا جو رنج اور صدمہ سے رونے والوں کا سا بنا ہوا تھا۔آپ دیکھ کر ہنسے اور فرمایا: پھر فرمایا:۔کیا چاول اچھے نہ پکنے کا افسوس ہے۔“ نہیں یہ تو بہت مزیدار ہیں۔میری پسند کے مطابق پچکے ہیں۔ایسے ہی زیادہ گڑ والے تو مجھے پسند ہیں۔یہ تو بہت اچھے ہیں“۔اور پھر بہت خوش ہو کر کھائے۔حضرت اماں جان فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب نے مجھے خوش کرنے کو اتنی باتیں کیں کہ میرا دل بھی خوش ہو گیا۔مشورہ کو اہمیت دینا (سیرت حضرت اماں جان مصنفہ صاحبزادی امتہ الشکور صاحبه صفحه 7-6) ایک دفعہ دار امسیح کے اس حصہ میں جہاں حضور ر ہتے تھے وہاں ایک صحن ہے جس کی ایک کھڑ کی جنوب کی طرف محلہ کوچہ بندی میں کھلتی ہے۔گرمیوں میں رات کو حضور اور آپ کے سب گھر والے اس صحن میں سویا کرتے تھے لیکن برسات کے موسم میں جب بارش ہوتی تو مشکل یہ پڑ جاتی کہ ساری چار پائیاں اُٹھا کر کمروں میں لے جانی پڑتیں۔اس واسطے حضرت اماں جان نے یہ مشورہ دیا کہ اس صحن کے ایک حصہ پر چھت ڈال دی جائے۔یعنی برآمدہ سا بنا دیا جائے تاکہ بارش ہونے پر چار پائیاں اس کے اندر کی جاسکیں۔حضور نے حکم فرما دیا کہ ایسا ہی کیا جائے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور چند دوسرے صحابہ رضی اللہ عنھم نے اعتراض کیا کہ ایسا نہ کریں صحن کی شکل خراب ہو جائے گی ، خوبصورتی ختم ہو جائے گی لیکن آپ نے سب کی باتیں سن کر فرمایا کہ ٹھیک ہے لیکن چونکہ میری بیوی خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے اور میرے ان بیٹوں کی ماں ہے جن کے متعلق خدا نے مجھے بشارتیں دی ہیں اس لئے میں اس کی ہر بات مانتا ہوں۔یہ برآمدہ بننا چاہیے۔سیرت حضرت اماں جان صفحہ 7 تا 8) 24 24