ہمارا گھر ہماری جنت — Page 23
(یعنی قیامت) بر پا ہو جاتا ہے۔اس لڑکے کو گھور، اس خادمہ سے خفا، اس بچہ کو مار، بیوی سے تکرار ہورہی ہے کہ نمک کھانے میں کیوں زیادہ یا کم ہو گیا۔یہ برتن یہاں کیوں رکھا ہے اور وہ چیز وہاں کیوں دھری ہے۔تم کیسی پھوہڑ بد مذاق اور بے سلیقہ عورت ہو اور کبھی جو کھانا طبع عالی کے حسب پسند نہ ہو تو آگے کے برتن کو دیوار سے بیچ دیتے ہیں اور بس ایک کہرام گھر میں بچ جاتا ہے۔عورتیں بلک بلک کر خدا سے دعا کرتی ہیں کہ شاہ صاحب باہر ہی رونق افروز رہیں۔اس کے مقابل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ اسوہ ہے کہ اگر کبھی کوئی خاص فرمائش کی ہے کہ وہ چیز ہمارے لئے تیار کر دو اور عین اس وقت کسی ضعف یا عارضہ کا مقتضاء تھا کہ وہ چیز لازما تیار ہی ہوتی اور اس کے انتظار میں کھانا بھی نہیں کھایا اور کبھی کبھی جو لکھنے یا تو جہ الی اللہ سے نزول کیا ہے تو یاد آ گیا ہے کہ کھانا کھانا ہے اور منتظر ہیں کہ وہ چیز آتی ہے۔آخر وقت اس کھانے کا گزر گیا اور شام کے کھانے کا وقت آ گیا ہے۔اس پر بھی کوئی گرفت نہیں اور جو نرمی سے پوچھا ہے اور عذر کیا گیا ہے کہ دھیان نہیں رہا تو مسکرا کر الگ ہو گئے۔( سیرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ 402 تا 403، مرتبه شیخ محمد احمد عرفانی و حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی) دلجوئی کا حسین انداز حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم صاحبہ بیان فرماتی ہیں:۔میں پہلے پہل جب دہلی سے آئی تو مجھے معلوم ہوا کہ حضرت ( مسیح موعود علیہ السلام ) کو گڑ والے چاول بہت پسند ہیں۔میں نے بڑے شوق سے ان کے پکانے کا انتظام کیا۔تھوڑے سے چاول منگوائے اور اس میں چار گنا گڑ ڈال دیا۔وہ بالکل راب بن گئے۔جب دیچی چو لہے سے اُتاری اور چاول برتن میں نکالے تو دیکھ کر سخت رنج اور صدمہ ہوا کہ یہ تو خراب ہو گئے۔ادھر کھانے کا وقت ہو گیا تھا۔حیران تھی کہ اب کیا کروں۔اتنے میں حضرت صاحب آگئے۔میرے 23 23