ہمارا آقا ﷺ — Page 109
ہمارا آقا ع 109 ساتھ بُت کو نجاست میں سے نکالتا، پانی سے دھوتا، کپڑے سے پونچھتا اور خوشبو لگا کر اپنی جگہ رکھ دیتا۔یہ تماشہ روز اسی طرح ہوتا لیکن نہ وہ دونوں پڑوسی اپنی شرارت سے باز آئے ، نہ اس بے چارے کے دل میں اپنے بُت کی طرف سے کوئی بد عقیدگی پیدا نہ ہوئی۔محبت کے ساتھ بُھوں کا خوف بھی اُن کے دلوں میں بہت بیٹھا ہوا تھا۔ایک لڑکے کو اُس کی ماں نے کچھ دودھ ، تھوڑا سا مکھن اور ذرا سا پنیر دیا کہ جاہمارے معبودوں پر چڑھا آ۔خالص دودھ ، تازہ مکھن اور عمدہ پنیر کو دیکھ کر لڑکے کا دل بہت للچایا اور بے اختیار اُس کا جی چاہا کہ دودھ، مکھن اور پنیر سب خود چٹ کر جائے اور ماں سے جا کر کہہ دے کہ چڑھا آیا۔مگر پھر خیال آیا کہ اگر بھوں نے اس گستاخی پر ناراض ہو کر میری گردن تو ڑ ڈالی تو کیا کروں گا ؟ اس مشکل کا کوئی حل لڑکے کی سمجھ میں نہ آیا۔اس لیے ناچار اور جبراً قبر دودھ مکھن اور پنیر کے پیالے لے جا کر بتوں کے آگے رکھ دیئے۔اگر چہ منہ میں پانی بھرتا رہا۔ابھی کچھ دیر نہ گذری تھی کہ ایک کتا آیا۔اُس نے دودھ پی لیا اور مکھن اور پنیر کھالیا پھر ان بچوں پر پیشاب کر دیا۔فارغ ہونے کے بعد