ہمارا آقا ﷺ — Page 93
ہمارا آقا ع 93 اگر تمہیں کہیں میرا بیٹا ملے تو اسے اپنے ساتھ لے آنا۔وہ آٹھ برس کا بھولا بھالا شریف بچہ ہے۔اُس کی صورت دلکش ہے اور آواز لطیف ! غرض کئی سال اس طرح گزر گئے مگر یوسف گم گشتہ کا پتہ نہ لگا۔ناگاہ امید کی ایک شعاع نظر آئی۔بنی کلب کے بعض لوگوں نے حج سے واپس جا کر زید کے باپ سے بیان کیا کہ تمہارا بیٹا مکہ میں ایک شخص محمد م ا للہ نامی کا غلام ہے۔کوئی اُس کے ہاتھ بیچ گیا ہوگا۔ہم تمہارے بیٹے سے ملے تھے وہ نہایت خوش و خرم اور آرام سے ہے۔اس کا آقا اسے بہت اچھی طرح رکھتا ہے۔ہم نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ زید کا آقا سردار قریش عبد المطلب کا پوتا ہے اور بڑا ہی عالی ظرف ، نیک دل ، ملنسار، اور خلیق آدمی ہے۔مکہ میں ہم جس سے بھی ملے۔اُس نے محمد ﷺ کی تعریف کی۔ساری قوم نے اسے امین اور صادق کا خطاب دے رکھا ہے۔اگر چہ یہ شخص ابھی بالکل نوجوان سے مگر ملکہ کا ہر آدمی اس الله کی عزت کرتا ہے۔ہمیں یقین ہے کہ اگر تم مکہ جا کر زید کے متعلق محمد اے سے کہو گے تو وہ ضرور تم کو تمہارا بیٹا واپس کر دے گا۔سوکھے دھانوں میں پانی پڑ گیا۔مسرت کا چراغ روشن ہو گیا اور مایوسی کی گھٹائیں چھوٹ گئیں۔باپ اور چا بہت سارو پیہ ساتھ لے کر مکہ کو روانہ ہو گئے یہاں پہنچے تو تلاش کرتے ہوئے آپ ﷺ کی خدمت میں