ہمارا آقا ﷺ — Page 92
ہمارا آقا عدل 92 ہوا نظر آتا ہے اور جب ڈوبنے لگتا ہے تو میں دُور اُفق کی سنہری شفق میں تیری تصویر دیکھ کر بے چین ہو جاتا ہوں۔ہر شب کو جب چاند نکلتا ہے تو اُسے دیکھتے ہی میں تجھے یاد کر کے تڑپ جاتا ہوں اور جب اندھیری رات میں آسمان پر ستارے چمکتے ہیں تو میں تیرے تصور میں کھو جاتا ہوں۔جب سرد ہوا چلتی ہے تو تیری جدائی میں وہ میرے دل پر تیرین کر لگتی ہے اور جب گرم ہوا کا جھونکا آتا ہے تو وہ میرے قلب میں تیری یاد کا شعلہ بھڑکا دیتا ہے۔میں اونٹ پر بیٹھ کر دنیا بھر کا چکر لگاؤں گا اور ہر ملک کے کونے کونے میں تجھے ڈھونڈوں گا۔شاید تو کہیں مل جائے۔اگر میری بدقسمتی سے تیرا سراغ نہ ملا تو میں تیری جستجو میں اپنی زندگی قربان کر دوں گا اور جب تیری تلاش کرتے کرتے مرنے لگوں گا تو قیس ، عمر ، یزید ، جبلہ کو وصیت کر جاؤں گا کہ وہ اپنی زندگیاں تجھے تلاش کرنے میں ختم کر دیں۔“ 6 جو آدمی حارث سے ملتا ، وہ اس سے پوچھتا تم نے کہیں میرا بیٹا دیکھا ہے؟ اُس کا چہرا ایسا ہے جیسے بنگلے کا ہے۔جب سنتا کہ کوئی قافلہ کسی دوسرے شہر کو جارہا ہے تو وہ اُس کے آدمیوں کے پاس جاتا اور اُن سے کہتا