ہمارا آقا ﷺ — Page 91
ہمارا آقا ع 66 ہوں ، آپ پسند کر لیں۔“ 91 خدیجہ نے زید کو پسند کر لیا اور گھر لے آئیں۔بچہ شائستہ اور مہذب تھا۔خدیجہ نے اپنے واجب الاحترام شوہر سے کہا:۔"یہ تو آپ کے لائق ہے، میری طرف سے قبول کیجئے۔“ زید اب محمد اللہ کا غلام تھا۔زید کی گم شدگی کے بعد اُس کے ماں باپ کا اُس کے فراق میں بُرا حال ہوا۔دن رات اس کے غم میں روتے اور ہر وقت اُن کی آنکھوں سے آنسو بہتے۔باپ کو اپنے پیارے بیٹے سے بڑی محبت تھی۔اس لیے اُس کی جدائی کا صدمہ غم نصیب باپ کے لئے نا قابل برداشت ہو گیا۔اپنے دل کی بھڑاس اُس نے اشعار میں نکالی جن کا ترجمہ یہ ہے:۔اے زید! میری آنکھیں تیرے غم میں اشکبار ہیں اور اُن سے آنسوؤں کی لڑی بہو رہی ہے۔لیکن مجھے معلوم نہیں کہ تو زندہ ہے یا مر گیا ؟ زید اہم تجھے کہاں تلاش کریں؟ نہ معلوم تو سمندر میں ڈوب گیا ؟ یا زمین نے تجھے نگل لیا ؟ کاش ! مجھے پتہ لگ جاتا کہ اس دُنیا میں تجھ سے ملاقات ہو سکے گی یا نہیں؟ ہر روز جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو اس کی گول ٹکیہ میں مجھے تو بیٹھا