ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 90 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 90

ہمارا آقا ع 90 (20) وفادار غلام اور مہربان آقاعلی عرب میں قزاقوں کا شیوہ تھا کہ شریفوں کے بچوں کو پکڑ کر لے جاتے اور غلام بنا کر بیچ ڈالتے۔یمن کے قبیلہ قزاعہ کے ایک معزز شخص حارث کے ساتھ بھی بہکی سانحہ گزرا۔یہ شخص عیسائی تھا۔اُس کا لڑکا زید نہایت ہی نیک اور فرمانبردار بچہ تھا۔صورت بہت پیاری اور عادتیں بڑی پسندیدہ تھیں۔ابھی صرف آٹھ سال کا تھا کہ ماں کے ساتھ ایک سفر پر گیا۔راہ میں ڈاکوؤں نے قافلہ پر حملہ کیا اور دوسرے بچوں کے ساتھ زید کو بھی پکڑ کر لے گئے۔اُن خبیثوں کا تو پیشہ یہی تھا۔اُن بچوں کو لا کر بازار عکاظ میں بیچ ڈالا۔مکہ کے ایک رئیس حکیم بن حزام نے جو حضرت خدیجہ کے بھیجے تھے۔اُن میں سے تین چارلڑ کے خرید لئے۔زید انہی میں سے ایک تھا۔چونکہ یہ دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ ہوشیار معلوم ہو تا تھا اس لیے ڈاکوؤں نے اس کے چار سو درہم وصول کئے۔حکیم بن حزام بچوں کو اپنے ساتھ گھر لے آئے۔کچھ دن بعد ایک روز جو خد بچہ اُن کے ہاں گئیں تو وہ کہنے لگے۔” پھوپھی امیں نے دو چار جوخدیجہ۔” دن ہوئے کچھ غلام خریدے ہیں۔اُن میں سے ایک آپ کی نذر کرنا چاہتا