ہمارا آقا ﷺ — Page 88
ہمارا آقا عدل 88 چوتھے دن ایک معزز سردار ابو امیہ بن مغیرہ نے بہت سوچنے کے بعد سرداران قریش کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ کل صبح نہایت سویرے جو شخص خانہ کعبہ میں سب سے پہلے داخل ہو۔وہ اس جھگڑے کا جو فیصلہ کر دے سب لوگ اُسے بلا چون و چرا قبول کر لیں۔، منظور ”منظور ہر طرف سے آوازیں آئیں اور کل صبح کے 6 انتظار میں ہر شخص نے بے چینی میں گھڑیاں گنتی شروع کیں۔صبح کو سب سے پہلے جو شخص خانہ کعبہ میں داخل ہوا۔اتفاق سے وہ سردار قریش کا پوتا ، آمنہ کا لال ، عبداللہ کا لخت جگر اور خدیجہ کا شوہر تھا۔لوگوں کے چہرے محمد ﷺ کو دیکھتے ہی فرط مسرت سے روشن ہو گئے۔ہر شخص خوشی سے چلایا : ” یہ صادق ہے ، یہ امین ہے ، ہمیں اس کا فیصلہ منظور ہے۔“ ہاشمی اپنے ایک آدمی کا یہ اعزاز دیکھ کر فخر سے پھولے نہ سمائے۔فر بنو ہاشم آگے بڑھا ، اپنے جسم پر سے چادر اتاری ،صحن کعبہ میں اسے بچھایا، اور حجر اسود کو اپنے ہاتھ سے اس پر رکھ دیا۔اس کے بعد تمام سرداروں سے فرمایا کہ آپ صاحبان چادر کے کونوں کو پکڑ کر اٹھا ئیں۔اپنے نو جوان ثالث کے ارشاد کی تعمیل میں سردارانِ قریش نے