ہمارا آقا ﷺ — Page 76
0 بیا 76 (25) ہمارا آقاعل الله خدیجہ جتنی دولت مند اور امیر کبیر تھیں اتنی ہی عالی ظرف اور پاکباز تھیں۔اپنی نیکی و پارسائی اور اپنے پاکیزہ اخلاق کے باعث سارے مکہ میں طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں۔یہ بیوہ تھیں اور اس سے پہلے ان کے دوخاوندوں کا انتقال ہو چکا تھا اور انہوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اب کوئی شادی نہیں کروں گی۔خدیجہ کے اعلیٰ کیرکٹر ، اُن کے اخلاق فاضلہ ، اُن کی پسندیدہ عادات کے باعث مکہ کے بڑے بڑے معزز سردار اُن سے نکاح کی درخواست کر چکے تھے مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا تھا۔لیکن نو جوان صلى الله محمد اللہ کی لیاقت ، آپ مے کی شرافت اور آپ ﷺ کے اخلاق حسنہ کو دیکھ کر اور اپنے غلام میسرہ سے آپ ﷺ کی تعریف سن کر انہوں نے خود آپ ﷺ سے نکاح کی درخواست کی اور اس غرض کے لئے اپنی سب سے قابل اعتماد لونڈی کو جس کا نام نفیسہ تھا۔آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا۔نفیسہ باتوں باتوں میں آپ ملے سے کہنے لگی کہ "میاں جتنی عمر آر ! آپ ع کی ہے، اس عمر میں تو لوگ کئی کئی بچوں کے باپ ہو جاتے ہیں،