ہمارا آقا ﷺ — Page 44
ہمارا آقا ع 44 مدینہ سے روانہ ہوکر جس وقت قافلہ مقام ابواء پر پہنچا تو دفعتاً حضرت آمنہ بیمار ہو گئیں اور ایسی بیمار ہو ئیں کہ اُن کو اپنی زندگی کی آس نہ رہی۔جب آمنہ کو محسوس ہوا کہ میرا آخری وقت آلگا تو بڑی حسرت کے ساتھ انہوں نے اپنے لخت جگر کی طرف دیکھا۔چھوٹا معصوم بچہ غم کی تصویر بنا سامنے کھڑا تھا۔ماں نے اشارہ سے بلا یا دوڑ کر چھاتی سے چمٹ گیا۔ماں کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے۔ذرا خیال تو کرو۔کتنا دردانگیز یہ نظارہ تھا۔ماں سینکڑوں امنگوں اور ہزاروں تمناؤں کو ساتھ لے کر دنیا سے جارہی ہے۔نہ معلوم کیا کیا خیالات اُس کے دل میں گزر رہے ہیں۔اپنے معصوم لال کو اس لق و دق صحرا میں بے یارو مددگار چھوڑے جانے کا صدمہ اس کی روح کو تڑپا رہا ہے۔یہ دیکھ کر کہ اس ہولناک وادی میں چھ برس کی جان کس طرح زندہ رہے گی اور میرے بعد اس پر کیا بیتے گی۔اُس کا دل پاش پاش ہو رہا ہے۔مگر موت نہ کسی کی امنگوں کی پرواہ کرتی ہے نہ حسرتوں کی۔وہ نہ بادشاہوں کو چھوڑتی ہے نہ فقیروں کو ، نہ امیروں سے رعایت کرتی ہے نہ غریبوں سے۔تھوڑی دیر بعد آمنہ ہمیشہ کے لئے دنیا سے رخصت ہو گئیں اور