ہمارا آقا ﷺ — Page 43
ہمارا آقاعل الله 43 (16) ماں کی جدائی اب تھا معصوم اپنی ماں کے پاس رہنے لگا شاید ہی کسی ماں کو اپنے بیٹے سے اتنی محبت ہوگی جتنی آمنہ کو اپنے یتیم بچے سے تھی۔مگر مرحوم شوہر کی موت کا صدمہ بھی ایسا نہ تھا جو کسی وقت اُن کے دل سے دور ہوتا ہو۔جب بھی یتیم بچے پر نظر پڑتی ، بے اختیار اس کے والد یاد آ جاتے اور طبیعت بے چین ہو جاتی۔ایک دن جب شوہر کی یاد نے بہت ہی ستایا تو حضرت آمنہ نے ارادہ کیا کہ لاؤمدینہ چل کر اُن کی قبر ہی کی زیارت کر آؤں۔شاید اسی سے دل کو کچھ ڈھارس ہو۔چنانچہ وہ اپنے لخت جگر کو ساتھ لے کر مدینہ گئیں اور وہاں اپنے رشتہ داروں کے ہاں ایک مہینے تک رہیں۔مدینہ کے قیام میں اُن کا یہ روزانہ کا معمول تھا کہ شوہر کی قبر پر جاتیں اور دیر تک وہاں بیٹھی رہتیں۔ایک مہینے تک مدینہ میں رہنے کے بعد انہوں نے واپس آنا چاہا اُن کو زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا۔ایک قافلہ مکہ آ رہا تھا، اُس کے ساتھ حضرت آمنہ بھی اپنے بیٹے کو لے کر روانہ ہو گئیں۔