ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 32 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 32

ہمارا آقاعل الله 32 میں مالدار ہوتی تو کوئی عورت میرے بچے کو بھی لینے آتی۔لیکن یہاں دونوں چیزیں نہ تھیں۔ناچار غریب بیوہ آو کھینچ کر اور دل مسوس کر رہ گئی۔انہی عورتوں میں حلیمہ نامی ایک دائی تھی۔بے چاری غریب بھی تھی اور کمزور بھی۔اُس کو بہت دوڑ دھوپ کے باوجود کوئی بچہ نہ ملاوہ بڑی حسرت کے ساتھ اپنی ساتھی عورتوں کو تک رہی تھی جن کے پاس بڑے بڑے امیروں کے بچے تھے۔غریب حلیمہ بچہ نہ ملنے پر غمگین تھی۔مگر قسمت سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی اور فرشتے آسمان سے جھانک کر کہہ رہے تھے کہ :۔علیمہ ! تجھے بچہ نہیں بلکہ بنی نوع انسان کا سردار اور اقلیم 66 روحانیت کا تاجدار ملنے والا ہے۔ذرا صبر تو کر “ جب حلیمہ کو با وجود سخت کوشش کے کوئی بچہ نہ ملا تو اس نے بہت ہی مایوس ہو کر اپنے شوہر سے کہا کہ اگر تم کہو تو میں جا کر آمنہ کے بچے ہی کو لے آؤں؟ اگر چہ وہ یتیم ہے اور اُس کی ماں کے پاس دینے دلانے کو بھی کچھ نہیں۔لیکن اگر میں کسی بچے کو نہ لے گئی تو میرے ساتھ کی دوسری عورتیں میرا مذاق اڑائیں گی اور مجھے طعنے دیں گی۔اس لئے بے کار سے بیگار بھلی۔بولو! تمہاری کیا رائے ہے؟ شوہر کا نام حارث تھا۔سُن کر کہنے لگا ” مجبوراً یہی کرنا پڑے گا۔