ہمارا آقا ﷺ — Page 14
ہمارا آقا ع 14 (6) دنیا کی پہلی مسجد ب ابراہیم علیہ السلام اور اسمعیل علیہ السلام دونوں خدا کی محبت او اُس کی تابعداری میں ثابت قدم ثابت ہوئے تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اب تم دونوں میری عبادت کے لئے مکہ میں ایک مسجد بناؤ۔میں اسے اتنی برکت دوں گا کہ لوگ مشرق اور مغرب سے اُس کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔“ دونوں باپ بیٹوں نے خدائی حکم کی تعمیل میں خود اپنے ہاتھوں سے مسجد بنائی مگر یہ مسجد اتنی سادہ تھی کہ نہ اس کی چھت تھی ، نہ کواڑ نہ چوکھٹ، صرف ایک معمولی سی چار دیواری تھی 9 ہاتھ اونچی 32 ہاتھ لمبی اور 22 ہاتھ چوڑی ، بیچ کا فرش بھی پختہ نہیں تھا۔یہ وہی مسجد ہے جو آج خانہ کعبہ کے نام سے مشہور ہے۔خدا نے حسب وعدہ اس کو اتنی برکت دی کہ یہ آج چودہ سو برس سے مسلمانوں کا قبلہ ہے۔تمام دنیا کے مسلمان اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور ہر سال ہزاروں کی تعداد میں دنیا کے مختلف حصوں سے آکر اس کا حج کرتے ہیں۔