ہمارا آقا ﷺ — Page 5
ہمارا آقا ع ہوائیاں اُڑنے لگیں۔5 اُس نے پانی کی تلاش میں انتہائی حسرت کے ساتھ چاروں طرف نظر دوڑائی مگر پانی عنقا تھا۔مامتا کی ماری ماں بڑی بیقراری کے ساتھ سامنے کی پہاڑی پر چڑھ گئی کہ شاید وہیں سے کہیں پانی کا کوئی چشمہ نظر آ جائے لیکن بے سود! وہ وہاں سے اُتری اور اُس کے بالمقابل دوسری پہاڑی پر چڑھ کہ پانی ڈھونڈ نے لگی مگر یہاں بھی اُسے ناکامی ہوئی۔اتنے میں شہزادی کو خیال آیا کہ بچہ پیاس سے تڑپ تڑپ کر کہیں مر نہ گیا ہو۔اس خیال کے آتے ہی وہ بڑی بے چینی کے ساتھ پہاڑی سے اتری اور دوڑ کر بچے کو گود میں اُٹھا کر چھاتی سے لگالیا۔بچہ ابھی تک زندہ تھا مگر پیاس کے مارے نہایت نڈھال ہو رہا تھا۔امید پر دُنیا قائم ہے ، ماں نے سوچا۔لاؤ ایک مرتبہ اور پہاڑی پر چڑھ کر دیکھوں۔شاید پانی کا کچھ سراغ لگ سکے۔ہوتا تو ملتا۔وہ پھر دوبارہ پہاڑی پر چڑھی اور دور تک دیکھتی رہی مگر پانی کہیں مایوس اور دل شکستہ ہو کر شہزادی پہاڑی سے اُتر آئی مگر دل نہ مانا اور خیال کرنے لگی کہ لاؤ دوسری پہاڑی پر بھی دوبارہ چڑھ کر قسمت آزمائی