ہمارا آقا ﷺ — Page 95
ہمارا آقا ع 95 آپ مے کو مذبذب دیکھ کر بڑی بے چینی کے ساتھ حارث نے کہا:۔”اے سردار قریش کے عالی قدر فرزند ! ہم تجھے تیرے ذی وقار آباؤ اجداد کا واسطہ دے کر التجا کرتے ہیں کہ ہمارے حال پر رحم کر اور ہمارے لڑکے کو ہمارے ساتھ کر دے۔کاش ! تجھے اس بات کا احساس ہوتا کہ والدین کا اپنے بچے کی جدائی سے کیسا بُرا حال ہوتا ہے اور اگر اُن کا بچہ کھویا جائے تو وہ اس کے فراق میں کتنے بے چین اور بے قرار ہوتے ہیں ؟ تو یقین کر کہ ہم نے یہ سارا زمانہ روروکر کاٹا ہے۔“ سردار قریش کے عالی قدر فرزند نے جواب دیا ”یہ بات نہیں مجھے اُس صدمہ کا پورا پورا احساس ہے جو آپ کو اپنے بچے سے جدا ہونے پر ہوا ہوگا۔آپ ﷺ کا بچہ بے شک میرے پاس ہے لیکن بات یہ ہے کہ چند دن اکٹھے رہنے کی وجہ سے مجھے زید سے ایسی محبت ہو گئی ہے کہ اب اُس سے جُدا ہونے میں تکلیف ہوتی ہے۔کیا مفاہمت کی کوئی اور صورت نہیں ہوسکتی؟ آپ علیہ کی اس گفتگو سے دونوں بھائیوں نے یہ سمجھا کہ ہاشمی سردار زادہ ہمارے بچے کو اپنی غلامی سے آزاد کرنا نہیں چاہتا اور بہانے بنا کر بات کو ٹال دینا چا ہتا ہے۔یہ سوچتے ہوئے بہت ہی مایوس ہو کر حارث نے کہا ” مفاہمت