ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 94 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 94

ہمارا آقا عدل حاضر ہوئے اور کہنے لگے :۔94 ”اے سردار قریش کے فرزند ! اے بنو ہاشم کے چشم و چراغ ! اے شریف و نجیب اور معزز نوجوان ! ہم یہاں نووارد ہیں اور کل ہی آکر اترے ہیں۔وطن میں بھی اور یہاں پہنچ کر بھی ہم نے تیرے اخلاقِ کریمانہ اور تیری عادات حسنہ کی بہت تعریفیں سنی ہیں۔ہم تجھ سے بھیک مانگنے آئے ہیں اور تیری شرافت نفس سے امید ہے کہ تو ہمیں مایوس نہیں لوٹائے گا۔واقعہ یہ ہے کہ ہم یمن کے رہنے والے ہیں۔ہمارا ایک لڑکا تھا زید نام۔ڈاکو اُسے پکڑ کے لے آئے اور سُنا ہے کہ تیرے ہاتھ بیچ ڈالا۔اے کریم النفس انسان ! ہم تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ مہربانی کر کے اُسے ہمارے حوالے کر دے۔اور اس کے بدلہ میں جس قدر روپیہ چاہے ہم سے لے لے۔ہم بلا تامل ادا کر دیں گے اور ہمیشہ تیرے احسان کے شکر 66 گزار رہیں گے۔“ زید کے باپ کی یہ تقریر سن کر آپ اللہ کچھ فکر مند سے ہو گئے۔در اصل زید سے آپ مے کو اتنی محبت ہو گئی تھی کہ آپ نے اسے اپنے سے جد ا کرنا نہیں چاہتے تھے۔دوسری طرف آپ ﷺ کو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ لڑکے کو اپنے ماں باپ سے چھڑا کر زبردستی اپنے پاس رکھا جائے اس لیے آپ نے سوچنے لگے کہ کیا جواب دوں؟