حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 306

حمامة البشرى لَا يَعْلَمُونَ۔۳۰۶ لَا يَعْلَمُونَ اردو ترجمه وقال فی مقام آخر أَفَأَمِنُوا آن ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَفَأَمِنُوا تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةٌ مِنْ عَذَابِ اللهِ أَوْ أَنْ تَأْتِيَهُمْ غَاشِيَةً مِنْ عَذَابِ اللَّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَهُمْ لَا السَّاعَةُ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ - قُلْ هَذِهِ يَشْعُرُونَ۔قُلْ هُذِهِ سَبِيْلِي ادْعُوا سَبِيلِي ادْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا إِلَى اللهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَمَنِ اتَّبَعَنِي ( نیز سورۃ الانبیاء میں فرمایا کہ ) بَلْ تَأْتِيهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ بَلْ تَأْتِيهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ رَدَّهَا رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنْظُرُونَ۔وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ وقال كَذلِكَ سَلَكْنُهُ فِي قُلُوبِ نیز فرمایا كَذَلِكَ سَلَكْنَهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِيْنَ - الْمُجْرِمِينَ۔لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهِ حَتَّى يَرَوْا لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْآلِيمَ۔الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ، فَيَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ فَيَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ لَا يَشْعُرُونَ۔لے وہ تجھ سے قیامت سے متعلق سوال کرتے ہیں کہ کب اُسے بپا ہوتا ہے تو کہ دے کہ اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے اسے اپنے وقت پر کوئی ظاہر نہیں کرے گا مگر وہی وہ آسمانوں اور زمین پر بھاری ہے وہ تم پر نہیں آئے گی مگر دفعہ وہ (اس کے بارہ میں ) تجھ سے اس طرح سوال کرتے ہیں گویا کہ تو اس کے متعلق سب کچھ جانتا ہے تو کہہ دے کہ اس کا علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ ( یہ بات) نہیں جانتے۔(الاعراف: ۱۸۸) ے پس کیا وہ اس بات سے امن میں ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے عذاب میں سے کوئی ڈھانپ دینے والی (مصیبت) آئے یا انقلاب کی ) گھڑی اچانک آ جائے جب کہ وہ (اس کا ) کوئی شعور نہ رکھتے ہوں۔تو کہہ دے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں بصیرت پر ہوں اور وہ بھی جس نے میری پیروی کی۔(یوسف: ۱۰۹،۱۰۸) ے بلکہ وہ ( گھڑی) اُن تک اچانک آئے گی اور انہیں مبہوت کر دے گی اور وہ اسے (اپنے سے ) پرے کر دینے کی طاقت نہیں رکھیں گے اور نہ ہی وہ مہلت دیئے جائیں گے۔(الانبیاء: ۴۱) ے اسی طرح ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس (بات) کو داخل کر دیا ہے۔(کہ) وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔پس وہ (عذاب) ان کی لاعلمی میں ان کے پاس اچانک آجائے گا۔(الشعراء: ۲۰۱تا۲۰۳)