حَمامة البشریٰ — Page 285
حمامة البشرى ۲۸۵ اردو ترجمه فما كان لرجل أن يقول أن أفعل کوئی شخص یہ کہنے کا مجاز نہیں کہ میں اپنے اختیار اور كذا وكذا باختيارى وإرادتي وما ارادے سے یہ یہ کام کروں گا۔انسان جو اپنے يـفـعـل إنسان باختياره وإرادته اختیار، ارادے اور تدبیر سے کرتا ہے وہ انسانی وتدبيره فهو فعل من أفعال افعال میں سے ایک فعل ہے اور ہم اُس کا نام معجزہ الإنسان، ولا نسميه معجزة بل هو نہیں رکھتے بلکہ وہ ایک منصوبہ یا جادو ہے۔پس مكيدة أو سحر۔فافُهُمُ يا أخى۔۔اے میرے بھائی! اللہ تعالیٰ تجھے رُشد میں زادك الله رشدا۔۔اني ما قلت بڑھائے تو ذہن نشین کرلے میں نے ایسے نہیں كما فهم المستعجلون، بل قلتُ کہا جیسے جلد بازوں نے سمجھا ہے بلکہ میں نے ایک متکلّما بزى رجل محمدی مردمحمدی کے پیرائے میں اپنے آقا و مولا محمد مصطفیٰ نظرًا على فضل كان على سيدنا خاتم النبین پر جو فضل تھا اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ محمدن المصطفى خاتم النبيين۔بات کہی ہے۔وما ضحكت على المسيح وما میں نے نہ تو مسیح علیہ السلام ) کی تضحیک کی اور استهزأت بمعجزاته، بل كان نہ ہی اُن کے معجزات سے استہزاء کیا ہے بلکہ میری مرادي من كلماتي كلها أنا أُوتينا ساری گفتگو کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں ایک کامل دین اور دينا كاملا ونبيًّا كاملا، ولا شك کامل نبی عطا کیا گیا ہے اور لا ریب یقینا ہم ہی أنا نحن خير أمة أخرجت للناس بہترین امت ہیں جولوگوں کے فائدے کے لئے فكم من كمال يوجد في الأنبياء پیدا کی گئی ہے۔پس کتنے ہی کمال ہیں جو حقیقی طور بالإصالة، ويحصل لنا أفضلُ پر انبیاء میں پائے جاتے ہیں اور ( یہ کمال ) اس سے وأولى منه بالطريق الظلي، وهذا افضل و اعلیٰ شکل میں ظلی طور پر ہمیں حاصل ہیں۔فضل الله يؤتيه من يشاء۔ألا ترى إلى اور يہ اللہ کا فضل ہے۔وہ جسے چاہتا ہے عطا کر دیتا منه قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔کیا تو رسول اللہ علیہ کے ارشاد پر غور نہیں کرتا