حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 229

حمامة البشرى ۲۲۹ اردو ترجمه وأما نظائره في الصحاح الستة جہاں تک صحاح ستہ اور دیگر ( کتب ) حدیث اور وأحاديث أخرى وكلام الشعراء شعراء (عرب) کے کلام میں اس کی نظائر کا تعلق فلا تُحصى كثرةً، ففكّرُ ولا تكن ہے تو وہ بے شمار ہیں۔لہذا تو غور وفکر کر اور انکار من المستنكرين۔وينبغي أن کرنے والوں میں سے نہ بن اور تجھے چاہئے کہ تحتاط في فكرك ولا تجيب اپنے فکر میں احتیاط کر اور جلد بازوں کی طرح جواب نے كالمستعجلين۔واعلموا أن الذين نہ دے۔اور جان لو کہ جن لوگوں نے ہمارے اس خالفوا بياننا هذا وقالوا إن التوفّى بیان کی مخالفت کی اور یہ کہا کہ آیت یعنی في آية يُعنى إِلى مُتَوَفِّيكَ إِلَى مُتَوَفِّيكَ اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي وفى آية فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي إنّما جاء میں توفی کا لفظ جسم کے ساتھ اُٹھائے جانے کے ۶۳ بمعنى الرفع مع الجسد، فهو قول معنوں میں آیا ہے۔تو یہ ایسا قول ہے کہ جس پر کوئی لا دليل عليه، وما نصوا على دلیل نہیں۔اور اُنہوں نے اس پر کوئی نص پیش ذلك، وما استدلوا بمحاورة کلام نہیں کی۔اور نہ ہی کلام اللہ کے محاورے، رسول الله وتفسير رسوله أو أصحابه أو الله صلى اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی تفسیر شهادة أحد من أهل اللسان، فلا يا ابل زبان میں سے کسی کی شہادت سے استدلال شك أنه تحكم محض كما هو نہیں کیا۔پس یہ بلاشبہ محض تحکم ہے جیسا کہ متعصب لوگوں کی عادت ہے۔عادة المتعصبين۔وإذا ثبت أن لفظ التوفي في اور جب یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ گیا القرآن فی کل مواضعها ما که قرآن میں ہر جگہ توفی کا لفظ وفات جاء إلا للإماتة وقبض الروح دینے اور قبض روح کے معنوں میں ہی آیا ہے۔اے عیسی یقینا میں تجھے وفات دینے والا ہوں۔(ال عمران: ۵۶) ے پس جب تو نے مجھے وفات دی۔(المائدۃ: ۱۱۸)