حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 225

حمامة البشرى ۲۲۵ اردو ترجمه ألا ترى أن الله تعالی کیف بعث کیا تو نہیں دیکھتا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ رسولا أُمّيا بعد عیسی ليُصدق کے بعد ایک امی رسول مبعوث فرمایا تا کہ وہ اپنے وعده، أعنى قوله: وَمُطَهَّرُكَ مِنَ وعده یعنی ارشادِ إِلَى وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ الَّذِينَ كَفَرُوا، ثم كيف جعل متبعی كَفَرُوا کو سچا کر دکھائے۔پھر کس طرح اُس نے عیسی علیه السلام غالبین علی عیسی علیہ السلام کے متبعین کو یہودیوں پر غالب اليهود لـيــصــدق وعدہ وَجَاعِلُ کیا۔تا کہ وہ اپنے وعدے وَجَاعِلُ الَّذِينَ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ۔۔الخ۔فلو كان اتَّبَعُوكَ۔۔الخ کو سچا کر دکھائے۔پس اگر نزول وعد النزول جُزْءًا من هذه كا وعدہ بھی ان وعدوں کا ایک جز ہوتا تو وہ بھی ان کا المواعيد لظهر معها، فانظر وعدوں کے ساتھ ظاہر ہو جاتا۔پس غور کر کہ دوسرے أين غاب وانعدم وعد النزول اجزاء کے ظہور کے باوجو دنزول کا وعدہ کہاں غائب مع ظهور أجزاء أخرى۔فو اور معدوم ہو گیا ؟ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے الذي نفسي بيده ان هذا الذى قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ میں نے جو بات قلت هو الحق، وأما عقيدة النزول کہی ہے وہ بالکل سچ ہے۔اور نزول کا عقیدہ ان فليس من أجزاء هذه المواعيد وعدوں کے اجزا میں سے نہیں۔اور نہ اسے ان وما ذُكر معها في القرآن، بل ( وعدوں) کے ساتھ قرآن میں بیان کیا گیا ہے۔لا يوجد أثر منه في كتاب الله بلکہ اس کا کوئی نشان تک کتاب اللہ میں نہیں پایا وإن هو إلا وهم المتوهمین جاتا۔اور یہ صرف وہم کرنے والوں کا وہم ہے۔فلما تبين الحق فلاتر الحق پس جب حق ظاہر ہو گیا تو تو حق کو حقارت اور بعين الاحتقار والازدراء ، واتق استخفاف کی نگاہ سے مت دیکھ اور اللہ سے ڈر اور الله وكن من المتورعين۔ولا پرہیز گاروں میں سے ہو جا۔اور تو قرآن میں تجد في القرآن إشارة إلى حياته أس كى حیات کا کوئی اشارہ تک نہ پائے گا۔ے اور کافروں کے الزامات) سے تجھے پاک کروں گا۔(آل عمران: ۵۶)