حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 211

حمامة البشرى ۲۱۱ اردو ترجمه فانظر كيف أشار في هذه الآية پس دیکھ ! کہ کس طرح اُس نے اس آیت میں إلى أن قبض الروح في النوم به اشاره فرمایا ہے کہ نیند کی حالت میں قبض روح موت مجازی۔فذگر لفظ التوفی ایک مجازی موت ہے۔اس لئے اُس نے اس ههنا بإقامة قرينة المنام جگہ توفی کا لفظ نیند کا قرینہ قائم کر کے بیان کیا تنبيها على أن لفظ التوفّى ههنا ہے۔یہ آگاہ کرنے کے لئے کہ اس جگہ توفی قد نُقل من المعنى الحقيقى إلى کا لفظ اپنے حقیقی معنوں سے مجازی معنوں کی المعنى المجازى، وإشارةً إلى طرف منتقل کیا گیا ہے اور یہ اس امر کی طرف أن معنى لفظ التوفّى حقيقة هو اشارہ ہے کہ لفظ توفی کے معنی حقیقی موت ہی الموت لا غيره۔وكذلك أقام کے ہیں۔اس کے علاوہ اور کوئی معنی نہیں۔اور اس قرينة قوله ثُمَّ يَبْعَثُكُمُ وقرينة طرح اُس نے ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ کہہ کر ایک قرینہ الليل في آية أخرى۔۔أعنى آية قائم کیا ہے۔اور ایک دوسری آیت میں اللیل هُوَ الَّذِى يَتَوَفَّكُمْ بِالَّيْلِ۔۔الخ، (رات) کا قرینہ قائم کیا گیا ہے۔یعنی آیت تنبيها على أن لفظ التوفّى هُوَ الَّذِي يَتَوَقْكُمْ بِالَّيْلِ الخ میں۔یہ ههنا ليس بمعنى الإنامة بتانے کے لئے کہ یہاں تو فی کا لفظ سُلانے کے بل المقصود الإماتة، والبعث معنوں میں نہیں۔بلکہ در حقیقت اس سے مقصود بعد الإماتة ليكون دليلا على موت اور موت کے بعد کی بعثت ہے تاکہ بعث يوم الدين۔جزا وسزا کے روز کی بعثت پر دلیل ہو۔فلأجل ذلك ذكر بعث يوم پس اسی وجہ سے اُس نے قیامت کے روز القيامة بــعــد هــذه الآية اُٹھائے جانے کا ذکر اس آیت کے بعد کیا وقال ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ اور فرمایا کہ ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ! ا وہی ہے جو تمہیں رات کو (بصورت نیند ) وفات دیتا ہے۔(الانعام: ۶۱) یعنی پھر اُسی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے۔(الانعام: ۶۱)