حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 171

حمامة البشرى اردو ترجمه فكيف يمكن أن يرجعوا إلى دار پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دوبارہ دکھوں کے گھر کی التعذيبات مرة ثانية فهذا معنی قول طرف لوٹیں۔پس جنتیوں کے قول وَمَا نَحْنُ أهل الجنة «وَمَا نَحْنُ مُعَذِّبِينَ مُعَذِّبِينَ کے یہ معنی ہیں۔فحاصل الكلام۔۔أن أبا بكر الصديق خلاصہ کلام یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق نے اس رد بهذه الآية قول عمر رضی الله آیت کے ساتھ حضرت عمرؓ کے قول کی تردید عنه۔ثم ما اكتفى على ذلك بل فرمائی۔پھر اس پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ آپ نے قصد المسجد وانطلق معه رهط من مسجد کا رخ کیا اور صحابہ کی ایک جماعت آپ کے الصحابة، فجاء وصعد المنبر، وجمع ساتھ گئی۔تب آپ آئے اور ممبر پھر کھڑے ہوئے حوله كل من كان موجودا من أصحاب اور آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ان تمام صحابہ کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ثم موجود تھے اپنے گرد جمع کر لیا۔پھر آپ نے اللہ کی أثنى على الله وصلی علی رسولہ ثناء کی اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود صلى الله عليه وسلم وقال: أيها بھیجا اور فرمایا: اے لوگو! جان لو کہ رسول اللہ صلی الناس۔۔اعلموا أن رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں۔پس جو کوئی محمد صلی الله عليه وسلم قد تُوفّى، فمن كان اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے تو اُسے یہ جان يعبد محمدا الا بالله فليعلم أنه قد لینا چاہئے کہ آپ وفات پاگئے ہیں۔اور جو اللہ کی مات، ومن كان يعبد الله فإنه حتى لا عبادت کرتا ہے تو وہ زندہ ہے اور اُس پر موت يموت، ثم قرأ: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُول نہیں آئے گی۔پھر آپ نے وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَايِنَ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِن ماتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمُ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ پڑھا۔لے حضرت محمد علیہ محض ایک رسول ہیں اور ان سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں پس کیا اگر وہ فوت ہو گئے یا قتل کئے گئے تو تم دین اسلام کو چھوڑ دو گے۔(ال عمران: ۱۴۵)