حَمامة البشریٰ — Page 170
حمامة البشرى ۱۷۰ اردو ترجمه فرد بذلك القول قول عمر اس طرح آپ نے اس قول کے ساتھ عمر وكان مأخذ قوله قوله تعالى إلَّا کے قول کی تردید فرما دی اور آپ کے قول مَوْتَتَنَا الأولى۔وكانت لأبى كا ماخذ الله تعالیٰ کی آیت إِلَّا مَوْتَتَنَا بکر رضی الله عنه مناسبة عجيبة الأولىی ہی تھی۔اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بدقائق القرآن و رموزه و اسراره کوقرآنی دقائق اور اُس کے رموز و اسرار و ومعارفه، وكان له ملكة كاملة في معارف سے ایک عجیب مناسبت تھی اور آپ استنباط المسائل من القرآن کو قرآن کریم سے مسائل کے استنباط میں کامل الكريم، فلذلك هُدِى قلبه إلى ملکہ حاصل تھا۔پس اسی وجہ سے آپ کے دل الحق وفهم أن الرجوع إلى الدنيا كى حق کی طرف رہنمائی کی گئی۔اور آ موتة ثانية، وهي لا يجوز على سمجھ گئے کہ دنیا کی طرف واپسی دوسری أهل الجنة بدليل قوله تعالی موت ہے اور یہ جنتیوں کے لئے جائز نہیں اور حكاية عن أهلها " إِلَّا مَوْتَتَنَا دلیل اس کی اللہ کا وہ قول ہے جو اُس نے الأولى وَمَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِيْنَ» جنتوں کے منہ سے إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأَوْلَى وَمَا فإن رجوع أهل الجنة إلى نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ " کہلوایا۔کیونکہ اہل جنت الدنيـا ثــم مــوتهم و ورود آلام کا دنیا کی طرف لوٹنا، پھر اُن کا مرنا اور جان کنی السكرات والأمراض عليهم نوع اور بیماریوں کی تکالیف کا ان پر وارد ہونا یہ ایک قسم من التعذيب، وقد نجی الله اياهم کا عذاب ہے۔جبکہ اللہ نے انہیں ہر عذاب سے من كـل عـذاب، و آواهـم عـنـده نجات دی ہے اور انہیں اُن کے دارالآخرت کی بإعطاء كل حبور وسرور من طرف منتقل کرنے کے دن سے ہی ہر آسائش و يوم انتقالهم إلى الدار الآخرة سرور عطا کر کے اپنے حضور پناہ دی ہے۔لے سوائے ہماری پہلی موت کے اور ہمیں ہر گز عذاب نہیں دیا جائے گا۔(الصافات: ۶۰)