حَمامة البشریٰ — Page 136
حمامة البشرى ۱۳۶ اردو ترجمه والدولة البرطانية لا تعينهم في اور حکومت برطانیہ کسی بھی معاملے میں ان أمر من الأمور، ولا ترجحهم علی (پادریوں کی مدد نہیں کرتی اور نہ ہی انہیں المسلمين، بل نرى أن هذه الدولة مسلمانوں پر ترجیح دیتی ہے۔بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ العادلة قد أعطت كل قوم حرية اس عادل حکومت نے ہر قوم کو پوری آزادی دے تامة، وأجازتهم إلى حد القانون رکھی ہے۔اور قانون کی حد تک انہیں اجازت دی فيفـعـل النـاس برعاية قانونهم ما ہے۔پس لوگ ان کے قانون کی رعایت رکھتے يشاء ون، ويرد کل مذهب علی ہوئے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔اور ہر مذہب مذهب آخر، وتجرى المناظرات دوسرے مذہب کا رڈ کرتا ہے۔اور ان علاقوں میں في هذه الديار كامواج البحار، مناظرے سمندر کی موجوں کی طرح جاری وساری والدولة لا تداخل فيهم وتتركهم ہیں۔اور حکومت ان میں مداخلت نہیں کرتی اور وہ مجادلين۔ثم لم أزل أتحدق في انہیں بحث مباحثہ کرنے دیتی ہے۔پھر میں نے اس هذا السر الغامض۔۔أعنى فى آن پوشیدہ راز کو ہمیشہ بنظر غائر دیکھا ہے۔یعنی اس الله تعالى لِمَ لَمْ يُرسل المسيح امر کو کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو شمشیر و سنان الموعود بالسيف والسنان، بل دے کر نہیں بھیجا۔بلکہ اُسے نرمی ، فروتنی، تواضع ، أمره للرفق والغربة والتواضع ولین نرم گفتاری اور حکمت کے ساتھ بحث کرنے اور القول والمجادلة بالحكمة والمداراة مدارات اختیار کرنے اور حسن بیان کا رویہ اپنانے وحسن البيان، بل منعه أن يزيد علی کا حکم دیا ہے۔بلکہ اُس نے منع فرمایا کہ اس پر وہ کوئی ذلك، فكنتُ أُفكر في هذا حتى اور اضافہ کرے۔پس میں اس پر سوچ و بچار کرتا رہا كشف الله على هذا السر، فعلمت یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ راز منکشف أن الله تبارك وتعالى لا يُرسل فرمایا اور میں نے یہ جان لیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کسی مصلحًا۔۔رسولا كان أو مجددًا مصلح كو ، خواہ اُس کی حیثیت رسول کی ہو یا مجدد کی ،