حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 42

حمامة البشرى ۴۲ اردو ترجمه وأما افتراؤهم على وظنُّهم كانى لا اور میری نسبت ان کا یہ افترا کرنا کہ میں گویا أؤمن بالملائكة، فما أقول فی جواب فرشتوں پر ایمان نہیں رکھتا پس میں ان فاسد هذه الظنون الفاسدة التي لا أصل لها بدگمانیوں کی نسبت جن کا کچھ اصل اور اثر نہیں ہے ولا أثر، غير أني أبتهل في حضرة بجز اس کے اور کچھ بھی نہیں کہتا کہ میں اپنے اللہ کے الله سبحانه وأقول رَبِّ الْعَنِّي إِنْ آگے ابتہال سے دعا کرتا ہوں کہ اے خدا اگر میں كنت قلت مثل هذا، وإلا فَالعَنِ نے یہ کہا ہے تو مجھ پر لعنت بھیج ورنہ ان مفتریوں پر المفترين الذين يفترون علی بغیر علم لعنت ہو تو جو بغیر علم کے مجھ پر افترا کرتے ہیں بقية الحاشية وحدث رسول اللہ صلی بقیہ حاشیہ۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے یوں قصہ الله عليه وسلم أنه ركب في سفينة بحرية بیان کیا کہ میں تم اور جذام کے قبیلوں کے تمھیں آدمیوں کے ساتھ مع ثلاثين رجلا من لخم وجذام، فلعب بهم ایک جہاز پر سوار ہوا اور برابر ایک ماہ تک موجوں میں چکر کھاتے الموج شهرا فى البحر، فأرفأوا إلى جزيرة رہے اس کے بعد مغرب کے قریب ایک جزیرہ میں اترے اور حيـن تـغـرب الشمس، فجلسوا في اقرب [ سفینہ کی چھوٹی کشتیوں] میں ہم سوار ہو کر ایک جزیرہ میں داخل ہوئے السفينة فدخلوا الجزيرة، فلقيتهم دابة تو وہاں ہمیں ایک جانور ملا جو بڑے گنجان اور بہت بالوں والا تھا أهـلـبُ كثير الشعر لا يدرون ما قبله مِن دُبُرہ اس کا آگا پیچھا بالوں کی کثرت سے ممتاز نہ ہوسکتا تھا ہم نے اُسے من كثرة الشعر۔قالوا ويلكِ ما أنتِ؟ قالت کہا کہ تو ہلاک ہو تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں جناسہ أنا الجساسة۔انـطـلـقـوا إلى هذا الرجل فی ہوں اس گرجا میں اُس مرد کے پاس جاؤ کہ وہ تمہارا بڑا مشتاق ہے الدير، فإنه إلى خبركم بالأشواق۔قال لما جبکہ اُس نے ہمیں اُس شخص کا پتہ دیا تو ہم ڈرے کہ یہ کوئی شیطانہ سمت لنا رجلا فَرِقُنا منها أن تكون شيطانة۔عورت نہ ہو۔پھر ہم جلدی جلدی معبد میں (گرجا ) میں گئے تو قال فانطلقنا سراعًا حتى دخلنا الدير ، فإذا فيه وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ بڑا جسیم آدمی بندھا پڑا ہے کہ جس کی مثل ہم أعـظـم إنـسـان رأيـــاه قــط خَلْقًا وأشده وثاقة، نے کبھی نہیں دیکھی اور اُس کی مشکیں کس کر دونوں گھٹنوں اور ٹخنوں مجموعة يده إلى عنقه ما بين ركبتيه إلى كعبیه کے درمیان لوہے کی زنجیر سے جکڑا ہوا تھا۔ہم نے اُسے کہا کہ تجھ بالحديد۔قلنا ويلك ما أنت؟ قال قد قدرتم پر لعنت ہو تو کون ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ اب تم میری خبر کو تو على خبرى، فأخبروني ما أنتم؟ قالوا نحن أناس سن سکتے ہو پہلے تم اپنا پتہ دو۔ہم نے کہا کہ ہم چند شخص ہیں جو جہاز ركبنا في سفينة بحرية، فلعب بنا البحر شهرا، پر سوار ہوئے تھے اور برابر ایک مہینہ تک گرداب میں پھنسے رہے