حَمامة البشریٰ — Page 360
حمامة البشرى اردو ترجمه وَقَدْ ضَاقَتِ الدُّنْيَا عَلَى عُشَّاقِهَا وَيَبْغُونَهَا عِشَقًا وَّ حُبًّا فَتُدْبِرُ اور دنیا اپنے عاشقوں پر تنگ ہو گئی ہے وہ اسے عشق اور محبت سے چاہتے ہیں تو وہ پیٹھ پھیر لیتی ہے۔تَزَاحَمَتِ الطُّلابُ حَوْلَ لُحُومِهَا كَمِثْلِ كِلَابِ وَالْمَنَايَا تَسْخَرُ (اس کے ) طالب اس کے گوشت کے گرد ہجوم کر رہے ہیں کتوں کی مانند اور موتیں (ان پر ) ہنس رہی ہیں۔وَ إِنَّ هَوَاهَا رَأْسُ كُلّ خَطِيئَةٍ فَخَفْ حُبَّهَا يَا أَيُّهَا الْمُتَبَصِرُ اس کا عشق ہر ایک خطا کی جڑ (منبع) ہے پس اس کی محبت سے ڈر۔اے بصیرت رکھنے والے! وَقَدْ مَضَغَتُ أَنْيَابُهَا كُلَّ طَالِبٍ وَاَنْتَ أَثَارَتُهُمْ فَسَوْفَ تُكَسَّرُ بے شک اس کی کچلیوں نے ہر طالب کو چبا ڈالا ہے اور تو ان کا بقیہ ہے پس تو بھی جلد توڑ دیا جائے گا۔عَلى كُلّ قَلْبٍ قَدْ أَحَاطَ ظَلَامُهَا سِوى قَلْبِ مَسْعُودٍ حَمَاهُ الْمُيَسِرُ ہر دل پر اس کی تاریکی نے احاطہ کر رکھا ہے سوائے خوش نصیب کے دل کے کہ جس کی حفاظت آسانی پیدا کرنے والے خدا نے کی ہو۔إِذَا مَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ كِلابَهَا فَفَاضَتْ دُمُوعُ الْعَيْنِ وَ الْقَلْبُ يَضْجَرُ جب میں نے مسلمانوں کو اس (دنیا) کے کتے پایا تو آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اس حال میں کہ دل گھبرا رہا تھا۔(١٠) عَلَى فِسْقِهِمُ لَمَّا اطَّلَعْتُ وَ كَسُلِهِمُ بَكَيْتُ وَلَمْ أَصْبِرُ وَلَا أَتَصَبَّرُ جب میں نے ان کے فسق اور ستی پر اطلاع پائی تو میں رو پڑا اور صبر نہ کر سکا اور نہ صبر کی تاب رکھتا ہوں۔اكَبُوا عَلَى الدُّنْيَا وَمَالُوُا إِلَى الْهَوَى وَقَدْ حَلَّ بَيْتَ الدِّينِ ذِئْبٌ مُدَمِّرُ وہ دنیا پر جھک گئے اور حرص و ہوا کی طرف مائل ہو گئے اس حال میں کہ دین کے گھر میں ایک تباہ کن بھیڑ یا اتر پڑا ہے۔ارى ظُلُمَاتٍ لَيْتَنِي مِثْ قَبْلَهَا وَذُقْتُ كُنُوسَ الْمَوْتِ لَوْلَا أَنَوَّرُ میں تاریکیاں دیکھ رہا ہوں۔کاش میں ان سے پہلے مر چکا ہوتا! اور میں موت کے پیالے چکھتا اگر میں منور نہ ہورہا ہوتا۔فَسَادٌ كَطُوفَانٍ مُّبِيدٍ وَإِنَّنِي أَرَاهُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ أَوْ هُوَ أَكْثَرُ مہلک طوفان کی طرح ایک فساد برپا ہے اور بے شک میں اسے سمندر کی لہر کی طرح پاتا ہوں یا وہ اس سے بھی بڑا ہے۔أرى كُلَّ مَفْتُونِ عَلَى الْمَوْتِ مُشْرِفًا وَكُلُّ ضَعِيْفٍ لَّا مَحَالَةَ يَعْثَرُ میں دیکھ رہا ہوں کہ ہر مبتلائے فتنہ موت کے کنارے پہنچ چکا ہے اور ہر ایک کمزور بالضرور ٹھوکر کھاتا ہے۔فَأَنْقَضَ ظَهْرِى ضُعْفُهُمْ وَوَبَالُهُمْ وَمِنْ دُونِ رَبِّي مَنْ يُدَاوِى وَيَنْصُرُ پس ان کے ضعف اور وبال نے میری کمر توڑ دی ہے اور میرے رب کے سوا کون علاج کرے گا اور مدد دے گا؟