حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 217

حمامة البشرى ۲۱۷ اردو ترجمه وعلى تقدير فرض هذا المعنى اور اس معنی کے فرض کر لینے سے ایک اور خرابی یلزم فساد آخر، وهو أن لفظ التوفّى بھى لازم آتی ہے اور وہ یہ کہ اس آیت میں توفی في هذه الآية وعد مُحدَث من الله کا لفظ ان دوسرے وعدوں کی طرح جن کا اللہ نے تعالى كمواعيد أخرى التي ذكرها اس آیت میں ذکر کیا ہے ایک جدید وعدہ ہے۔اور الله فيها، ولو كان هذا المعنى هو الحق اگر بالفرض) یہ معنے ہی درست ہوں تو اس سے فيلزم منه أن يكون نوم المسيح عند یہ لازم آئے گا کہ رفع کے وقت مسیح کی نیند وہ پہلا الرفع أول أمر ورد عليه في عمره، امر ہوگا جو اُن کی زندگی میں وارد ہوا اور پھر یہ بھی ويلزمهم أن يعتقدوا أن عيسى عليه ان پر لازم آئے گا کہ وہ یہ عقیدہ رکھیں کہ عیسیٰ علیہ السلام كان لا ينام قبل الرفع قط، فإن السلام رفع سے پہلے کبھی بھی نہیں سوتے تھے۔الأمر الذي قد وقع عليه في حياته غیر پس وہ امر جو اُن (مسیح) کی زندگی میں کئی بار مرة۔۔كيف يمكن أن يذكره الله في واقع ہوا یہ کیسے ممکن ہے کہ اُس کا جدید نئے مواعيد جديدة محدثة فإن وعد الشيء وعدوں کے ساتھ اللہ ذکر فرمائے۔کیونکہ کسی چیز يدلّ على عدم وجود الشيء قبل کا وعدہ کرنا وعدے سے قبل اُس چیز کے عدم وجود الوعد، وإلا فيلزم تحصيل حاصل پر دلالت کیا کرتا ہے ورنہ تحصیل حاصل لا زم آئے وهو فعل لغو لا يليق بشان الله گی۔اور یہ لغو فعل ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے تعالى، ووجب أن يُنزَّه عنه وعد رب شایان نہیں۔اور ضروری ہے کہ ربّ العالمین العالمين۔ثم لو كان هذا المعنى هو كا وعدہ اس سے پاک ہو۔پھراگر (بالفرض) یہ الصحيح۔۔فما تقول في آية فَلَنا معنی بھی صحیح ہوں تو فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنْتَ تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ے کی نسبت تو کیا کہے گا؟ کیا تو أتظن أن النصارى اتخذوا المسیح یہ خیال کرتا ہے کہ عیسائیوں نے مسیح کو اُن کی نیند إلها بعد نومه لا بعد وفاته کے بعد معبود بنایا تھا نہ کہ اُن کی وفات کے بعد۔لے پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو اس وقت تو ہی ان کا نگہبان اور محافظ اور نگران تھا۔(المآئدۃ: ۱۱۸)