حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 205

حمامة البشرى ۲۰۵ اردو ترجمه وأنت تـعـلـم أن في ترتيب هذه اور تو جانتا ہے کہ اس آیت کی ترتیب میں الآية كـانـت هــذه الـمـواعيد كلها سارے وعدے توفّی کے وعدے کے بعد ہیں اور بعد وعد التوفي، وكان وعد تَوَفّى كا وعدہ ان سب ( وعدوں ) پر مقدم ہے اور التوفّى مقدمًا على كلها، وقد اتفق قوم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ یہ تمام القوم على أنها وقعت بترتيب وعدے اسی ترتیب سے واقع ہوئے ہیں جو اس يوجد في الآية، فلو فرضنا أن لفظ آیت میں پائی جاتی ہے۔پس اگر ہم فرض کر التوفى مؤخر من لفظ الرفع للزمنا لیں کہ لفظ توفی لفظ رفع کے بعد آیا ہے تو ہم پر أن نقر بأن عيسی علیه السلام قد لازم ہوگا کہ ہم اقرار کریں کہ عیسی علیہ السلام توفّى بعد الرفع وقبل وقوع رفع کے بعد اور باقی وعدوں کے وقوع پذیر المواعيد الباقية، وهذا مما لا ہونے سے پہلے وفات پاگئے اور یہ بات ایسی ہے يعتقد به أحد من المخالفین کہ مخالفوں میں سے کوئی بھی یہ عقیدہ نہیں رکھتا۔بقية الحاشية صفحه ١٩۴- أو يُسَد عليه بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۹۴۔اور ان پر اس (جنت) کا بالا خانه مسدود غرفتها ثم يُتوَفَّى مرة ثانية؟ مع أن الآية ہو جائے۔پھر وہ دوسری دفعہ وفات پائیں۔جبکہ پہلی آیت، یعنی المتقدمة۔۔أعنى لا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلا آيت لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأولى داى الْمَوْتَةَ الأُولَى تدل على دوام الحياة وعدم زندگی اور موت کا مزہ نہ چکھنے پر دلالت کرتی ہے اور اسی کی طرف ذوق الموت۔وإلى هذا يُشير الاستثناء ( قاعده) استثناء منقطع اشارہ کرتا ہے۔کیونکہ یہ عموم کی حفاظت الـمـنـقـطـع، فإنه جرى مجرى التأکید کے لئے بطور تاکید اور نص استعمال ہوا ہے۔اور اس نے عام کی والتنصيص على حفظ العموم وجعل النفی نفی اول کو بمنزلہ ایسی نص کے قرار دیا ہے۔جس میں قطعی طور پر الأول العام بمنزلة النص الذي لا يتطرق کوئی استثناء راہ نہیں پاتا۔کیونکہ اگر افراد میں سے کسی فرد کا إليه استثناء البتة، إذ لو تطرّق إليه استثناء استثناء اس میں راہ پا جائے تو اس سے استثناء منقطع کی بجائے اس فرد من أفراد لكان أولى بذكره من العدول کا ذکر کرنا زیادہ مناسب ہو گا۔پس تو اس بات کو اچھی طرح عنه إلى الاستثناء المنقطع، فاحفظه فإنه من ذہن نشین کر لے کیونکہ یہ ان اسرار میں سے ہے جو تحقیق کرنے أسرار مفيدة للمحققين منه والوں کے لئے مفید ہیں۔منہ الدخان: ۵۷