حَمامة البشریٰ — Page 177
حمامة البشرى ۱۷۷ اردو ترجمه يخفى على المتفقهين۔فانظر كيف وعد الله للكافرين لعنة پس غور کر کہ اللہ نے کس طرح کافروں کے لئے أبدية، فلو رجعوا إلى الدنيا وآمنوا ابدى لعنت کا وعدہ فرمایا ہے۔جیسا کہ اس آیت کا بكتبه ورسله لوجب أن لا يُقبل صحیح منطوق ہے، پھر اگر وہ دنیا کی طرف لوٹیں اور عنهم إيمانهم، ولا يُنزع عنهم الله کی کتابوں اور رسولوں پر ایمان لائیں تو لازم اللعنة الموعودة إلى الأبد كما هو ہے کہ اُن سے اُن کا ایمان قبول نہ کیا جائے اور منطوق الآية۔وأنت تعلم أن هذا ابدالآباد تک وہ موعودہ لعنت اُن سے ہٹائی نہ الأمر يخالف هدايات القرآن كما لا جائے۔اور تو جانتا ہے کہ یہ بات قرآنی ارشادات کے خلاف ہے۔جیسا کہ اہل فہم پر مخفی نہیں۔وأما إحياء الموتى من دون هذه ہاں البتہ مُردوں کا اُن لوازم کے بغیر جن کا ہم اللوازم التي ذكرناها، أو إماتة نے ذکر کیا ہے زندہ ہونا یا زندوں کا ایک گھڑی بھر الأحياء لساعة واحدة ثم إحياؤهم کے لئے مار دینا اور پھر اُن کا بلا توقف زندہ کیا جانا من غير توقف كما نجد بيانه فی جیسا کہ ہم قرآن کریم کے واقعات میں اُن کا بیان قصص القرآن الكريم فهو أمر پاتے ہیں تو وہ ایک الگ بات ہے اور اللہ تعالیٰ آخر، وسر من أسرار اللہ تعالی کے اسرار میں سے ایک بستر ہے اور اس میں نہ تو حقیقی ولا توجد فيه آثار الحياة الحقیقی زندگی کے آثار اور نہ ہی حقیقی موت کی علامات پائی ولا علامات الموت الحقیقی، بل جاتی ہیں۔بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے هو من آيات الله تعالى و إعجازات اور اُس کے بعض انبیاء کے معجزات میں سے ہے۔بعض أنبيائه، نؤمن به وإن لم نعلم ہمارا اس پر ایمان ہے اگر چہ ہم اس کی حقیقت سے حقيقته، ولكنا لا نسميه إحياء نا واقف ہیں لیکن ہم اس کا نام نہ تو حقیقی زندگی حقيقيًا ولا إماتة حقيقية۔فإن رجلا رکھتے ہیں اور نہ ہی حقیقی موت۔مثلاً اگر ایک شخص مثلا أُحيي بعد ألف سنة باعجاز نبی کسی نبی کے معجزہ سے ایک ہزار سال بعد زندہ ہو