حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 109

حمامة البشرى ۱۰۹ اردو ترجمه وأما قوله تعالى في قصة إدريس اور جہاں تک (حضرت) ادریس کے قصے میں وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا فاتفق | اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّال المحققون من العلماء أن المراد تو محقق علماء نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ یہاں من الرفع ههنا هو الإماتة بالإكرام رفع سے مراد عزت کے ساتھ وفات دینا اور ورفع الدرجات، والدليل على درجات کا بلند کرنا ہے۔اور اس پر دلیل یہ ہے کہ ذلك أن لكل إنسان موت مُقدّر اللہ تعالیٰ کے فرمان كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ کی رو لقوله تعالى: كُلِّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ ولا سے ہرانسان کے لئے موت مقدر ہے۔اور خدا تعالیٰ يجوز الموت في السماوات لقوله كے ارشاد وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ ے کی رو سے آسمانوں تعالى: وَفِيهَا نُعِيدُكُم، ولا نجد فی میں موت کا جواز نہیں ہے اور ہم قرآن میں القرآن ذكر نزول إدريس وموته ( حضرت ) اور لیس کے نزول اور اُن کی وفات اور ان ودفنه في الأرض، فثبت بالضرورة کے زمین میں مدفون ہونے کا ذکر نہیں پاتے۔پس أن المراد من الرفع الموت۔فحاصل قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ رفع سے مراد موت الكلام أن كل ما يخالف القرآن ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ ہر وہ بات جو قرآن کے مخالف ويعارض قصصه فهى أباطيل اور اُس کے بیان کردہ) قصوں کے معارض ہو وہ وأكاذيب، وإنّما هو تقولُ المفترين باطل، جھوٹ اور مفتریوں کی من گھڑت باتیں ہیں۔ثم اعلم۔۔أيدك الله تعالى۔۔أن اللہ تیری مدد کرے، تجھے یہ معلوم ہو کہ مسیح کے عقيدة نزول المسيح من السماء مع عدم آسمان سے نزول کا عقیدہ نصوص قرآنیہ سے عدم ثبوته من النصوص القرآنية ومخالفة ثبوت اور اس ( عقیدہ) میں قرآن کی مخالفت کی القرآن فيها، يضر عقائد التوحيد وجہ سے توحید کے عقائد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ے اور ہم نے اس کا ایک بلند مقام کی طرف رفع کیا تھا۔(مریم:۵۸) کے ہر چیز جو اس پر ہے فانی ہے۔(الرحمن: ۲۷ سے اور اُسی میں ہم تمہیں لوٹا دیں گے۔(طه:۵۶)