حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 105

حمامة البشرى ۱۰۵ اردو ترجمه وإنا لا ننظر إلى الأحاديث بنظر اور ہم احادیث کو استخفاف اور توہین کی نظر سے الاستخفاف والتوهين، بل نحن نہیں دیکھتے۔بلکہ ہم ان ائمہ محدثین کے شکر گزار نشكر أئمة المحدثين ونحمدهم ہیں اور ان کی مساعی کی تعریف کرتے ہیں۔بلاشبہ على سعيهم، ولا شك أن للأحاديث احادیث کی عظیم شان ہے اور وہ تواریخ اسلام اور شأنا عظيما، وهي حاملة لتواريخ بيشتر مسائل دینیہ اور اس کی جزئیات کی حامل الإسلام ولأكثر مسائل الدین ہیں۔ہم ان کی عزت و تکریم کرتے ہیں اور انہیں و وجزئياته، وتعظمها ونعزها ونقبلها بسروچشم قبول کرتے ہیں لیکن ہم انہیں کتاب اللہ بالرأس والعين، ولكنا لا نقدمها على (قرآن) پر جو امام اور مہیمن ہے مقدم نہیں كتاب الله الإمام المهيمن، وإذا کرتے۔اور جب قرآن اور حدیث میں کسی قصے تخالف الحديث والفرقان فی أمر من کے بارہ میں باہم اختلاف ہو جائے تو ہم جن القصص فتشهد الثَّقَلينِ أنا مع وانس کو گواہ ٹھہراتے ہیں کہ ہم قرآن کے ساتھ الفرقان ولا نبالی طعن الطاعنين ہیں اور ہم طعنہ زنوں کے طعن کی پرواہ نہیں کرتے ونعلم أن الخير كله والسلامة كلها اور ہم جانتے ہیں کہ تمام تر بھلائی اور تمام تر سلامتی في جعل القرآن معيارا لمثل هذه قرآن کو اس قسم کی احادیث کے لئے معیار بنانے الأخبار، فالقانون الصحيح العاصم میں ہے پس خطا سے بچانے والا صحیح قانون یہی من الخطاء أن نعرض كل قصة على ہے کہ ہم ہر قصے کو قرآن پر پیش کریں۔پھر اگر اس القرآن، فإن كان ذكرها في القرآن کا یا اس سے ملتے جلتے اور مشابہ امر کا ذکر قرآن أو ذكـر أمــر يُشاكلها ويُشابهها میں موجود ہو تو وہ قبول کر لیا جائے گا اور اُس فيُقبل ويؤمن به ويُعتقد عليه، وإن پرایمان لایا جائے گا اور اُس پر اعتقاد رکھا جائے لم يوجد شبیه فی القرآن، لا فی گا۔اور اگر قرآن میں اس کی مثل نہ پائی جائے نہ هذه الأمة ولا فى أمم أخرى ، اس امت میں اور نہ دوسری امتوں کے ذکر میں۔