حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 49

حمامة البشرى ۴۹ اردو ترجمه ثم ذهلت هذه الطائفة تلك الضابطة پھر یہ گروہ اس مبارک ضابطہ کو ایسے بھولے گویا المباركة كأنهم <mark>لا</mark> يعلمون شيئا وكأنهم وہ اس سے بے علم اور جاہل تھے اور میں یقیناً من الجاهلين۔وَإنِّي أرى أنهم <mark>لا</mark> يعتقدون جانتا ہوں کہ وہ قرآن کو زندہ ک<mark>لا</mark>م اور سچا امام بأن القرآن ك<mark>لا</mark>م حى، وإمام صادق اور حق کا نگہبان اور معیار کامل نہیں جانتے بلکہ ومهيمن، و معيار كامل، بل يحقرونه | اس کی حقارت کرتے ہیں اور حدیثوں کے ۱۲ ويضعونه تحت أقدام الأحاديث قدموں کے نیچے ڈالتے ہیں اور احادیث کو ويجعلون الأحاديث قاضية عليها قرآن پر قاضی مقرر کرتے ہیں اس سے پہلے کہ من قبل أن يُفتشوا الآثار حق تفتيشها، وہ اس کی تفتیش کر لیتے [ جیسا کہ تفتیش کا حق ويثبتوا موازنة القطعيات بالقطعیات تھا اور قطعیات کا قطعیات سے موازنہ کر لیتے بقية الحاشية - فوجب من هذا على كل مؤمن بقیہ حاشیہ۔پس اس سے ہر ایک مومن پر <mark>لا</mark>زم ہے کہ وہ اس أن يؤمن بموت الدجال بعد المائة من زمان رسول پر ایمان <mark>لا</mark>وے کہ آنحضرت کے زمانہ کے بعد صدی کے الله صلى الله عليه وسلم، وإ<mark>لا</mark> فكيف يمكن اندر اندر دجال ضرور مرگیا ہے۔کیونکہ آنحضرت کے ایسے التخلف فيما قال رسول الله صلى الله علیه وسلم ارشاد کا کب خ<mark>لا</mark>ف ہوسکتا ہے جو وحی الہی سے اور مؤکد بہ بـوحـي مـن الله تعالى مؤكدًا بقسمه؟ والقسم حلف ہو۔اور قسم صاف بتاتی ہے کہ یہ خبر ظاہری معنوں پر يدل على أن الخبر محمول علی الظاهر <mark>لا</mark> <mark>تأویل</mark> محمول ہے نہ اس میں کوئی <mark>تاویل</mark> ہے اور نہ استثناء ہے ورنہ فيه و<mark>لا</mark> استثناء ، وإ<mark>لا</mark> فأي فائدة كانت فی ذکر قسم میں کون سا فائدہ ہے۔پس محققوں اور تفتیش کرنے القسم؟ فتدبَّرُ كالمفتشين المحققين۔وأما والوں کی طرح خوب سوچ سمجھ لے اور ان دو حدیثوں میں تطبيق هذين الحديثين ف<mark>لا</mark> يمكن إ<mark>لا</mark> بعد تأويل بجز اس کے تطبیق ممکن ہی نہیں کہ دجال والی حدیث کو از فقسم حديث الدجال وجعله من قبيل ا<mark>لا</mark>ستعارات استعارات قرار دے کر اس میں <mark>تاویل</mark> کی جاوے [ پس ہم فنقول إن حديث خروج الدجال يدلّ علی کہتے ہیں کہ خروج دجال کی حدیث نصاریٰ کے ایک خروج طائفة الكذابين في آخر الزمان من قوم کذاب گروہ کے اخیر زمانہ میں نکلنے پر د<mark>لا</mark>لت کرتی ہے اور النصارى، وفي الحديث إشارة إلى أنهم يُشابهون حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دھوکوں اور آباء هم المتقدمين في مكرهم وخديعتهم وأنواع فریبوں اور قسم قسم کے فتنوں اور لوگوں کے گمراہ کرنے کی فتنهم وحرصهم على إض<mark>لا</mark>ل الناس كأنهم هم إ<mark>لا</mark> حرص میں وہ اپنے آباء واجداد کے ایسے مشابہ ہوں گے کہ أن آباء هم كانوا مقيدين بالس<mark>لا</mark>سل و الأغ<mark>لا</mark>ل، گویا یہ اب وہی ہیں جو طوقوں اور زنجیروں میں مقید تھے