حَمامة البشریٰ — Page 43
حمامة البشرى ۴۳ اردو ترجمه ويكفرون بغير الحق، ولا يتقون الله اور ناحق مجھے کافر کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے بقية الحاشية فدخلنا الجزيرة، فلقيتنا بقیہ حاشیہ۔ اور جب اس جزیرہ میں اترے تو ہمیں ایک بہت گنجان دابة أهلب فقالت أنا الجساسة، اعمدوا إلى بالوں والا جانور ملا جو اپنا نام جساسہ بتلاتا تھا اُس نے کہا تم دیر هذا في الدير، فأقبلنا إليك سراعًا۔ فقال (گرجے ) میں اُس شخص کے پاس جاؤ پھر ہم تیرے پاس آئے۔ أخبروني عن نخل بيسان هل تثمر ؟ تو پھر اس نے کہا مجھے بتلاؤ کہ کیا بیان کے باغ پھل لاتے ہیں؟ L : هذه الأخبار الغيبية تدل على أن هذا یہ اخبار بچند وجوہ بتاتے ہیں کہ آنحضرت صلی الله الله الحديث ليس من رسول الله صلى الله علیہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نہیں ہے کیونکہ یہ قرآن کے وسلم، لأنها يُعارض القرآن ويُخالف محکمات کے معارض ہیں اور دجال آئندہ خبروں کو محكماته۔ وكيف يمكن أن يقدر الدجال کب بتا سکتا تھا جبکہ خدا نے اپنی محکم کتاب میں فرما دیا الخبيث على بيان الأنباء المستقبلة وقال الله تھا کہ خدا اپنے غیب پر بجز چنیدہ برگزیدہ رسول کے تعالى في كتابه المحكم: فَلَا يُظْهِرُ عَلیٰ اور کسی کو اطلاع نہیں دیتا ۔ پھر دجال نے کیونکر یہ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ، غیبی خبر صحیح اور واقعی طور پر بتلا دی اور دجال نے یہ فكيف أخبر الدجال عن الغيب خبرا واضحا کیوں کہا کہ لوگوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ اس صحيحًا مطابقا للواقع؟ وكيف قال الدجّال ان اُمی اور عربی نبی کی اتباع کریں کہ وہ صادق ہے ۔ الخير للناس أن يُطيعوا هذا النبي الأمي العربي حالانکہ دجال کا فر اور خدا کا نا فرمان ہے پس وہ کیونکر فإنه صادق، مع أن الدجال كافر لا يطيع الله، خدا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دے سکتا فكيف يأمر بإطاعة نبيه صلى الله عليه وسلم؟ ہے اور طرفہ تر یہ کہ وہ لوگوں کے خیال میں تو بجز اپنی ومع ذلك هو ليس بقائل بزعم القوم بإله من ذات کے اور کسی خدا کا قائل نہیں ہے تو وہ یہ بات دون نفسه، فكيف : قال : وإنى يوشك أن يؤذن کب کہہ سکتا ہے کہ عنقریب مجھے نکلنے کا حکم دیا جائے گا لي في الخروج فأخرج، بل إن هذا اللفظ يدل تو پھر میں نکلوں گا بلکہ یہ لفظ صاف دلالت کرتا ہے کہ على أنه لا يخرج من الدير إلا بإلهام الله تعالی وه بجز الہام اور وحی الہی کے دیر (گرجا ) سے نہ نکلے ووحيه، فيلزم من هذا أن يكون الدجال أحدًا گا پس اس سے لازم آتا ہے کہ دجال بھی ایک نبی ہو من الأنبياء ، وقد تقرر عندهم أنه من أكابر حالانکہ سب مانتے ہیں کہ وہ بڑا مفسد ہے پس سو چو اور المفسدين۔ فتفكر ولا تكن من الغافلين۔ منه۔ غفلت کو ترک کرو ۔ منه ا الجن: ۲۷، ۲۸