حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 227

حمامة البشرى ۲۲۷ اردو ترجمه فإنه لما ثبت وتحقق أن معنى کیونکہ جب یہ بات ثابت اور متحقق ہو گئی کہ التوفي قبض الروح فقط لا قبض توفی کے معنی صرف قبض روح کے ہیں نہ الجسم، ثبت من ههنا أن الرفع که قبض جسم کے تو اس سے ثابت ہوا کہ يتعلق بالروح لا بالجسم، فإن الله رفع کا تعلق روح سے ہے، جسم سے نہیں ۔ لا يرفع إلا الشيء الذى قبضه پس اللہ تعالیٰ رفع نہیں کرتا مگر اُسی چیز ومعلوم أن الله لا يقبض الأجسام كا جس کو اُس نے قبض کر لیا ہو۔ اور ظاہر بل يقبض الأرواح فقط۔ وأنت ہے کہ اللہ جسموں کو قبض نہیں کرتا بلکہ وہ تعلم أن القرآن يشهد على هذا في صرف روحوں کو قبض کرتا ہے۔ اور تو جانتا كل مواضعه، ولن تجد فی القرآن ہے کہ قرآن تمام مقامات پر اس کی گواہی دیتا ہے لفظا من ألفاظ التوفى الذی کان اور تو قرآن میں توفی کے الفاظ میں سے معناه رفع الجسم مع الروح کوئی لفظ ایسا نہیں پائے گا جس کے معنی وكذلك جرت عادة الله تعالی روح کے ساتھ جسم کے اُٹھائے جانے کے ہوں ۔ من يوم خلق آدم إلى هذا اليوم، اور اسی طرح آدم کی پیدائش کے دن سے لے کر فإنه يقبض الأرواح ويترك آج تک یہی اللہ تعالیٰ کی سنت جاری ہے الأجسام مطروحة على الأرض أو كه وه روحوں کو قبض کرتا ہے اور جسموں کو السرر أو الفرش۔ فالشيء الذي ما زمین یا چار پائیوں یا بستروں میں پڑا ہوا قبضه الله تعالى ۔۔ كيف يُرفع إليه؟ چھوڑ دیتا ہے۔ لہذا وہ چیز جسے اللہ نے قبض نہ فإن القبض شرط ضروری للرفع۔ کیا ہو اُس کا اُس کی طرف رفع کیسے ہوگا ؟ ثم إذا تفحصنا عن ألفاظ التوفّى فى كيونكہ رفع کے لئے قبض ( روح ) ضروری شرط القرآن فوجدناها في خمسة ہے۔ پھر جب ہم قرآن میں توفی کے الفاظ وعشرين موضعا من مواضعه تلاش کرتے ہیں تو ہم پچیس جگہ یہ لفظ پاتے ہیں ۔