حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 169

حمامة البشرى ۱۶۹ اردو ترجمه هو منبع الأنوار، وكاد يحل نورہ آپ منبع انوار ہیں اور قریب ہے کہ آپ کا نور منکر بساحة قوم منكرين۔ قوم کے آنگن میں اُتر آ آئے۔ ثم نرجع إلـى كـلـمـاتنا الأولى اب ہم پھر اپنے پہلے کلام کی ط کلام کی طرف لوٹتے ہیں ۵۰ ونقول إن الآية التي ذكرناها آنفا ۔۔ اور کہتے ہیں کہ جس آیت کا ہم نے ابھی ذکر کیا ہے۔ أعنى قوله تعالى "إلَّا مَوْتَتَنَا الأولى یعنی اللہ تعالیٰ کے فرمان الَّا مَوْتَتَنَا الأولى - قد استدل بها الخليفة الأول جب حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے أبو بكر الصديق رضي الله عنه إذا وفات پائی اور لوگوں نے آپ کی وفات کے تُوفّى رسول الله صلی اللہ علیہ بارے میں اختلاف کیا تو خلیفہ اول حضرت ابوبکر وسلم واختلف الناس فى وفاته صدیق نے اس آیت سے استدلال فرمایا۔اور وقال عمر ما مات رسول الله صلی حضرت عمرؓ نے یہاں تک فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ الله عليه وسلم بموت حقیقی بل علیہ وسلم حقیقی طور پر فوت نہیں ہوئے بلکہ آپ دوبارہ يأتي مرة ثانية في الدنيا ويقطع دنیا میں تشریف لائیں گے اور منافقوں کے ناک أنوف المنافقين وأيديهم و آذانهم اور اُن کے ہاتھ اور کان کاٹیں گے۔ اس پر حضرت فأنكره الصديق ومنعه من ذلك، ابوبكر صدیقی نے انہیں اس بات سے روکا اور منع ثم بادر إلى بيت عائشة رضی اللہ فرمایا۔ پھر آپ تیزی سے حضرت عائشہ کے گھر عنها وأتى رسول الله صلى الله تشریف لے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عليه وسلم، وكان ميتا على نعش مبارک کے پاس گئے جو بستر پر تھی پھر آپ نے الفراش، فنزع عن وجهه الرداء حضور ﷺ کے چہرے سے چادر ہٹائی اور آپ کو وقبله وبكى، وقال: إنك چوما، رو پڑے اور فرمایا ” آپ زندہ ہونے اور وفات پا طيب حيا وميتا، لن يجمع الله جانے (دونوں حالتوں) میں پاکیزہ ہیں۔ اللہ آپ پر عليك الموتين إلا موتتك الأولى۔ آپ کی پہلی موت کے سوا دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔ صلى الله