حَمامة البشریٰ — Page 117
حمامة البشرى ۱۱۷ اردو ترجمه ويرجعون إلى جاهلية أُولى اور اپنی پہلی حالت جاہلیت بلکہ اس سے بھی فتیح تر بل إلى أقبح و أشنع منها، اور بدتر حالت کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ جس پر فيرتعد النبى المتبوع بسماع متبوع نبی اللہ تعالیٰ سے یہ خبر سن کر کانپ اُٹھتا هذا الخبر عن الله تعالى، ويدركه ہے اور اُسے رنج وغم اور اضطراب لاحق ہو جاتا ہے هم وغم واضطراب، ويقصد اور وہ چاہتا ہے کہ زمین پر نازل ہوکر اپنی امت کی أن ينزل إلى الأرض ويُصلح أمته، اصلاح کرے لیکن وہ اس کی طرف کوئی راہ نہیں پاتا کیونکہ پہلے ہی سے اللہ تعالیٰ یہ فرما فلا يجد سبيلا إليه لما سبق قول الله تعالى: أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ چکا ہے کہ أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ کے پر اللہ تعالیٰ زمین پر اس (نبی) کا ایک مثیل پیدا کرتا ہے اور فالله يجعل له مثيلا في الأرض ويجعل إراداته في إراداته اُس کے ارادوں کو اُس نبی کے ارادے اور اُس کی تو جہات کو اُس نبی کی تو جہات بنا دیتا ہے اور وتوجهاته في توجهاته، ويجعلهما اُنہیں ایک ہی شے بنا دیتا ہے گویا کہ وہ دونوں کشیء واحد كأنهما من جوهر ایک ہی جوہر سے ہیں۔ اور اُس (نبی) کی واحد، ويُـنـــــزل روحـــانيـتـه علـى روحانیت اُس کے مثیل پر نازل کرتا ہے جس روحانيته، فيظهر المثيل بشأن کے نتیجے میں وہ مثیل عین اُسی شان اور اُنہی وأخلاق وصـفـات كان الممثل به اخلاق وصفات کے ساتھ ظاہر ہے ساتھ ظاہر ہوتا ہے جن سے يوصف بها۔ فهذا هو الوجه الذي اُس کا ممثل نبی متصف تھا ۔ پس یہی وہ وجہ اختير له لفظ النزول لیدل علی ہے جس کے باعث نزول کا لفظ اختیار کیا گیا أن المسيح الموعود يجيء علی تاکہ وہ اس بات پر دلالت کرے کہ مسیح موعود قدم المسيح الأصلى كأنه هو اصلى مسیح کے قدم پر آئے گا گویا کہ وہ وہی ہے۔ لے وہ واپس نہیں لوٹیں گے۔ (الانبیاء: ۹۶)