حَمامة البشریٰ — Page 63
حمامة البشرى ۶۳ اردو ترجمه فيا حسرة عليهم ! إنهم ظنوا ظن پس اُن پر افسوس ہے کہ انہوں نے بغیر سوچنے السوء بغير فكر وتحقيق وإمعان اور تحقیق کرنے اور باریک بینی کے بدظنی کی بقية الحاشية - ونرى أن السلاطين كلهم بقیہ حاشیہ۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ سب بادشاہ ان کے يرتعدون من هولهم، وقد ظهرت على قلوبهم خوف سے کانپتے ہیں اور خوف سے ان کے دلوں پر سکتہ خوف وانحجام واعتقدوا بأنهم عليهم غالبون۔کا سا عالم ہو گیا ہے اور ان کو یقین ہو گیا ہے کہ یہ لوگ ولكنا لا نرى من الدجال الموهوم المتصور فی ہم پر غالب ہیں لیکن قوم کے وہمی اور خیالی دجال سے خيالات الـقـوم أثرا ولا علامة، ونرى أن فتن ہم کوئی علامت اور نشان نہیں پاتے اور ہم یہ بھی دیکھتے النصارى قد تكاثرت وامتلأت الأرض من ہیں کہ نصاریٰ کے فتنے بہت ہو گئے ہیں اور زمین ان کے ۲۲ مكائدهم فهذا دليل واضح على ان المعنی فریبوں سے پُر ہو گئی ہے تو یہ اس کی واضح دلیل ہے کہ مسیح الصحيح نزول المسيح عند غلبة النصاري على کا نزول نصاری کے غلبہ کے وقت ہوگا اور ان متعارض أهل الأرض، ولا سبيل إلى تطبيق هذه الأحاديث حدیثوں کی تطبیق کا بجز اس کے اور کوئی سبیل ہی نہیں کہ المتعارضة إلا أن نقول أن قسيسى النصارى هم نصاری کے علماء ہی بے شک دجال معبود ہیں اور ہم پر الدجال المعهود، ووجب علينا أن نفسر واجب ہے کہ ہم حدیثوں کی تفسیر ایسی کریں جیسے کہ وہ الأحاديث بنحو ظهرت معانيها في الخارج، فإن واقعہ میں ظاہر ہوئے ہیں کیونکہ جن احادیث کا ہم نے الأحاديث التي ذكرناها آنفًا كان بعضها قائدًا ابھی ذکر کیا ہے ان میں سے بعض تو اس طرف کھینچتی ہیں إلى أن المسيح ينزل عند شوكة النصارى کہ نصاری کے تسلط اور ان کی صلیب کی شوکت کے وشوكة صليبهم وتسلطهم فى الأرض، وكان وقت مسیح اترے گا اور بعض اس طرف کھینچتی ہیں کہ خروج بعضها قائدًا إلى أنه لا ينزل إلا في وقت خروج دجال اور اس کے تمام زمین پر مسلط ہونے کے وقت الدجال وتسلطه على وجه الأرض كلها، فراینا اترے گا۔پس ہم نے پہلی قسم کی حدیثوں کے آثار تو آثار القائد الأول ووجدناها واقعة فی زماننا، دیکھ لئے اور ان کو اس زمانہ میں صادق پایا ہے اور ہم ونرى أن أخبار شوكة الصليب قد تمت ووقع نے صلیبی شوکتوں کی خبروں کو واقع ہوتے دیکھ لیا جیسا كلها كما أخبر عنها رسول الله صلی اللہ علیہ کہ آنحضرت نے خبر دی تھی یہاں تک کہ ہم نے اپنی وسلم حتى رأيناها بأعيننا، وأما القائد الذي كان آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اور خروج دجال کی حدیثیں جو مخالفًا لها ومعارضًا لمعانيها، أعنى حديث خروج ان کے مخالف اور معارض ہیں ان کا کچھ اثر اب تک ظاہر الدجال فما ظهر أثر منه، فالذي ظهر من نہیں ہوا پس دو معنوں میں سے جو ظاہر ہو گئی ہیں وہی حق ہیں المعنيين هو الحق، والذى ما ظهر من المعنيين اور جو ان میں سے ظاہر نہیں ہوئی وہ باطل ہیں کہ جن میں هو الباطل الذي أخطأ فيه نظر المتفكرين۔سمجھنے والوں کی نظر نے خطا کھائی ہے۔